آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے افغانستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے دہلی میں بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر بھارت کی ہمنوائی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور شہباز ملاقات سے بھارتی اثرورسوخ کو دھچکا لگا ہے، وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق

وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوارالحق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں ایک حل طلب مسئلہ ہے اور بھارت جموں و کشمیر پر اپنے جھوٹے بیانیے کی ترویج میں سرگرم عمل ہے، مگر دنیا بھارت کے اس جھوٹ کو تسلیم نہیں کرتی۔

چوہدری انوارالحق نے کہا کہ افغانستان کے وزیر خارجہ تاریخ سے نابلد ہیں اور حقائق سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر فوجی قبضہ کر رکھا ہے، لیکن کشمیری عوام اس قبضے کو تسلیم نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کو جواب دینے کے لیے لائن آف کنٹرول عبور کرنی پڑی تو کرجائیں گے، وزیراعظم آزاد کشمیر

وزیراعظم آزادکشمیر کے مطابق کشمیری عوام ہر عالمی فورم پر بھارت کے فوجی قبضے کے خلاف سرگرم عمل رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے قیامِ پاکستان سے قبل 19 جولائی 1947 کو الحاقِ پاکستان کی قرارداد کی روشنی میں اپنی وابستگی کا فیصلہ کر لیا تھا۔

چوہدری انوارالحق نے کہا کہ کشمیری عوام اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے مسلسل جان و مال کی قربانیاں دے رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق انہیں ان کا حقِ خود ارادیت ضرور ملے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آزاد کشمیر افغانستان بھارت چوہدری انوار الحق مقبوضہ کشمیر وزیراعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان بھارت چوہدری انوار الحق چوہدری انوارالحق نے نے کہا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع