سیول، سیمینار کے مقررین کا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
سیمینار کا انعقاد انٹرنیشنل انٹر چینج ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی آئی ڈی اے) نے کیا تھا۔ سیمینار میں انسانی حقوق کے علمبرداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ کشمیر کونسل یورپ (کے سی ای یو) کے چیئرمین علی رضا سید نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کرانے کے لیے کردار ادا کرے۔ ذرائع کے مطابق علی رضا سید نے ان خیالات کا اظہار جنوبی کوریا کے شہر سیول میں "یوم سیاہ، انصاف و آزادی کیلئے کشمیر کی پکار“ کے عنوان سے منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب میں کیا۔ سیمینار کا انعقاد انٹرنیشنل انٹر چینج ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی آئی ڈی اے) نے کیا تھا۔ سیمینار میں انسانی حقوق کے علمبرداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔ علی رضا سید نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا خطہ ہے کیونکہ بھارت نے علاقے پر اپنے غیر قانونی تسلط کو برقرار رکھنے کیلئے وہاں دس لاکھ کے قریب فورسز اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم منصوبے پر بھی عمل پیرا ہے۔ علی رضا سید نے محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، خرم پرویز اور صحافی سجاد گل کی حالت زار پر روشنی ڈالی جنہیں بھارت نے جھوٹے الزامات میں قید کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جبر کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنی تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہیں۔ سیمینار سے دیگر مقررین نے خطاب میں بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو علاقے میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر جواب دہ ٹھہرائے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی رضا سید نے نے کہا کہ
پڑھیں:
چندہ ہندو دیتے ہیں؛ مقبوضہ کشمیر کی یونیورسٹی میں مسلم طلبا کے داخلے پر ممکنہ پابندی
بی جے پی کے مطالبے پر مقبوضہ کشمیر کی ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا پر غور کیا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی بی جے پی کی قیادت نے ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے داخلے پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔
بی جے پی کے رہنماؤں نے یہ متنازع اور غیر آئینی مطالبہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو پیش کردہ ایک یادداشت میں کیا ہے۔
خیال رہے کہ بی جے پی کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یونیورسٹی کی 50 نشستوں میں سے 42 پر مسلمان امیدوار طلبا کامیاب ہوگئے ہیں۔
بی جے پی رہنما سنیل شرما نے الزام لگایا کہ یونیورسٹی ہندو عقیدت مندوں کے چندے سے چلتی ہے اور داخلہ صرف انہی طلبا کو ملنا چاہیے جو ماتا سے عقیدت رکھتے ہوں۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ملک بھر میں مذہبی ادارے تعلیمی مراکز چلاتے ہیں جہاں ہر مذہب کے طلبا پڑھتے ہیں، لہٰذا اس طرح کی پابندیاں ملک کو تقسیم کر دیں گی۔
واضح رہے کہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر مذہب سے متعلق کوئی شرط درج نہیں، اور ماضی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبا یہاں سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔