بھارتی فوج میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے خطرناک صورتِ حال اختیار کر لی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اوسطاً ہر تیسرے دن ایک فوجی اپنی زندگی ختم کر رہا ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں تعینات فوجیوں میں ذہنی دباؤ اور فرار کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

2014 سے 2024 تک 983 خودکشیاں

ڈیفنس انسٹیٹیوٹ آف سائیکولوجیکل ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق، 2014 سے 2024 کے دوران بھارتی فوج میں 983 فوجیوں نے خودکشی کی۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں 586 بھارتی فوجیوں کی خودکشی، سبب کیا نکلا؟

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوجیوں کو ذلت، ہراسانی، ناقص قیادت، خوراک کی کمی اور طویل تعیناتی جیسے مسائل کا سامنا ہے، جو شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا باعث بن رہے ہیں۔

پچھلے 5 برس میں 819 خودکشیاں

بھارتی پارلیمان (راجیہ سبھا) میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، صرف گزشتہ 5 برس میں 819 بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار فوجی اداروں کے اندر موجود گہرے نفسیاتی بحران کو ظاہر کرتے ہیں۔

جموں و کشمیر میں تعینات فوجی سب سے زیادہ دباؤ میں

بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں تعینات فوجی سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔ سخت حالات، مقامی آبادی کی مزاحمت، اور طویل محاذی تعیناتی کے باعث ان کی ذہنی صحت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ فرار کے واقعات میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

فوجی شکایات پر سول انتظامیہ خاموش

رپورٹس کے مطابق، فوجی اہلکاروں کی جانب سے ذہنی دباؤ اور بدانتظامی سے متعلق شکایات کے باوجود سول انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔

ماہرین کے مطابق بھارتی فوج میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کا یہ رجحان ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے اب نظرانداز کرنا بھارت کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی فوج خود کشی جموں و کشمیر خود کشی راجیہ سبھا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی فوج خود کشی راجیہ سبھا بھارتی فوج میں کے مطابق

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان