مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج کی سرگرمی میں غیر معمولی تیزی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ضلع کپواڑہ میں کنٹرول لائن کے قریب بھارتی فوجیوں کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کنٹرول لائن پر بھاری توپ خانہ منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ علاقے کی ڈرون کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مودی حکومت نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں فوجی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی لائی ہے۔ ضلع کپواڑہ میں کنٹرول لائن کے قریب بھارتی فوجیوں کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کنٹرول لائن پر بھاری توپ خانہ منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ علاقے کی ڈرون کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والی 155 ایم ایم آرٹلری گنیں کنٹرول لائن کے قریب اگلی پوسٹوں کی طرف منتقل کی جا رہی ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بھاری توپوں کو ٹنگدھر، ترہگام اور کیرن جیسے حساس سیکٹروں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کیمپوں اور بنکروں کی مرمت وغیرہ کا کام بھی جنگی بنیادوں پر شروع کیا گیا ہے۔ رہائشیوں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ بھارتی فوج نے کنٹرول لائن کے ساتھ چراگاہوں اور مشہور سیاحتی مقامات کو سیل کر دیا ہے۔ لوگوں نے وادی میں رات کے وقت ریل گاڑیوں کی آمدورفت میں تیزی کی اطلاع دی ہے اور اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ان کے ذریعے فوجی سازوسامان کنٹرول لائن کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا بھارتی فورسز نے کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری سے ملحقہ دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر محاصروں اور تلاشی کی کارروائیوں اور چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بھارتی فوجیوں، پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے حریت رہنمائوں اور آزادی کے حامی افراد کو بڑے پیمانے پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: منتقل کیا جا رہا ہے کنٹرول لائن کے منتقل کی کی طرف
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔