حکومتی حلقوں کی سفارش نے جامعہ کراچی کے ایک شعبے کو زبوں حالی پر پہنچا دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
جامعہ کراچی میں تقریبا تین دہائیوں قبل قائم ہونے والا شعبہ ویژول اسٹیڈیز اپنی سلور جوبلی گزارنے کے بعد طلباء و طالبات کا متلاشی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایک دوسر میں اس شعبے میں داخلے کے لیے 1200 سے 1500 تک طلبہ درخواست دیتے تھے اور رجحان زیادہ ہونے کی وجہ سے aptitude ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد کلاس کا حصہ بنتے تھے تاہم حکومتی حلقوں کی جانب سے مسلسل داخلوں کی سفارش کی وجہ سے اب یہ تعداد بتدریج کم ہوکر 300 سے بھی کم رہ گئی ہے۔
اس برس شعبہ ویژول اسٹڈیز کے داخلہ ٹیسٹ میں ڈھائی سو سے زائد طلبہ شریک ہوں گے، جو شعبہ اور یونیورسٹی کی اتھارٹی کے لیے تشوشیناک صورت حال سے کم نہیں ہے۔
شعبہ ویژول اسٹڈیز کے آفیشل ذرائع نے طلبہ کی کم ہوتی تعداد کی تصدیق کی یے جس سے یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا پاکستان اور بالخصوص کراچی میں پرفارمنگ اور انڈسٹریل آرٹس کی تعلیم میں ہی طلبہ کا رجحان کم ہورہا ہے اور کیا انڈسٹری میں اس تعلیم سے وابستہ طلبہ کی کھپت نہیں یے۔
" ایکسپریس " نے اس سوال کے جواب کے لیے ملک کے معروف تعلیم ادارے این سی اے نیشنل کالج آف آرٹ کے وائس چانسلر مرتضی جعفری سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’’لاہور میں قائم ان کی یونیورسٹی میں تو داخلوں کے رجحان میں ماضی کے مقابلے میں مزید اضافہ ہوا ہے اور ہمارے پاس اس برس داخلوں کے کیے گزشتہ سال کی نسبت زیادہ درخواستوں آئی ہیں لہذا ایسا نہیں ہے کہ طلبہ کا رجحان کم ہو"۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پرفارمنگ اور انڈسٹریل آرٹس کی تعلیم میں وفاقی و صوبائی حکومتی کی عدم دلچسپی بھی جامعہ کراچی کے اس شعبے میں طلبہ کے کم ہوتے ہوئے رجحان کا ایک بڑا سبب ہوسکتی ہے کیونکہ اس شعبے کو فن کی دنیا میں اپنی استعداد کار بڑھانے کے لیے جو لیبس، ورکس اسٹیشنز ، فرنیچر و آلات اور کمپیوٹر مشینری درکار ہیں اس کے لیے خطیر فنڈ درکار ہوتا ہے جو 27 برسوں میں وفاقی ایچ ای سی کی جانب سے دیا گیا اور نہ ہی صوبائی حکومت نے اس میں اپنا حصہ ڈالا بلکہ بے اعتناعی ہی برتی گئی جو کچھ ہی وہ شعبہ اعر یونیورسٹی نے اپنی مدد آپ کے تحت کیا ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں یہ شعبہ 1998 میں سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر زیدی کے دور سربراہی میں اس وقت قائم ہوا تھا جب کراچی شہر میں پرفارمنگ آرٹ کی باقاعدہ یا رسمی تعلیم کسی بھی یونیورسٹی میں دی جاتی تھی۔
یہ کوئی باضابطہ گریجویشن پروگرام موجود نہیں تھا تھا لہذا کراچی میں آرٹ سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے یہ شعبہ تازہ ہوا کے کسی جھونکے سے کم نا تھا۔
شعبہ کے تحت " فائن آرٹس، گرافکس ڈیزائن، فلم ، آرکیٹیکچر، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ، انڈسٹریل ڈیزائننگ اور اسلامک آرٹ سمیت کچھ دوسرے ضابطوں میں بیچلر پروگرام آفر ہوتا ہے، جس کے لیے شعبے میں 120 نشستیں مختص ہیں تاہم ان نشستوں پر اب داخلوں کے لیے اپلائی کرنے والے امیدوار ڈھائی سو کے لگ بھگ ہیں جو اب سے صرف چند سال قبل تک 1100 سے 1400 تک ہوا کرتے تھے۔
"ایکسپریس" نے داخلوں کے اس رجحان میں کمی کی وجہ دریافت کرنے کی کوشش کی جہاں آفیشل ذرائع نے چند وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ داخلہ فارم کا انتہائی مہنگا ہونا قرار دیا۔
ذرائع کا یہ کہنا تھا کہ "ماضی میں داخلہ فارم کی قیمت 1 ہزار روپے ہوتی تھی جو بڑھ کر 2 ہزار، ڈھائی ہزار اور 3 ہزار تک پہنچی لیکن اب قیمت 5 ہزار روپے ہے کم قیمت کے سبب پہلے ایسے طلبہ بھی اپلائی کرلیتے تھے جن کی شعبہ اور متعلقہ پیشے کے حوالے سے کوئی understanding بھی نہیں ہوتی تھی اور یہ طلبہ ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے تھے۔
تاہم اب وہی طلبہ داخلوں کے لیے درخواست دیتے ہیں جو اس ضابطے کے حوالے سے جانکاری رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ اب شہر کراچی میں مذکورہ تعلیم کے مزید ادارے نجی شعبے میں قائم ہوچکے ہیں جن میں حبیب یونیورسٹی، اقراء یونیورسٹی، انڈس یونیورسٹی، انڈس ویلی اور زیبیسٹ بھی شامل ہے جبکہ سرکاری شعبہ میں شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی آف آرٹ ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج بھی اپنا مقام بنا چکی ہے۔
مسابقت کی ایسی صورتحال میں جامعہ کراچی کے اس ادارے کو بچانے کے لیے حکومت سندھ اور وفاقی ایچ ای سی کا تعاون ناگزیر ہے کیونکہ کراچی میں سرکاری سطح پر جامعہ کراچی ہی واحد ادارہ ہے جو یہ تعلیم دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جامعہ کراچی کراچی میں داخلوں کے کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :