فرخ احمد: سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم  اگر اپنا رویہ درست نہیں کریں گے تو  پاکستانی فوج چھوڑے گی نہیں،اب ان مسائل کا حل یا تو عسکری قیادت نے یا سیاسی قیادت نے مل بیٹھ کر کرنا ہے۔  

 24 نیوز کے پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں فتنہ الخوارج کی جانب سے سیز فائر کا فائدہ اٹھا کر پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام ہونے پر  اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے  کہا کہ یہ سیز فائر مستقل ہی ہو جائے تو بہتر ہے ورنہ اگر وہ  اپنا رویہ درست نہیں کریں گے تو  پاکستانی فوج چھوڑے گی نہیں،اب ان مسائل کا حل یا تو عسکری قیادت نے یا سیاسی قیادت نے مل بیٹھ کر کرنا ہے، اب بہت ہو گیا 40 سال سے  ہم دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں تاریخی ’’کنگ سلمان گیٹ‘‘ منصوبے کا اعلان

 انہوں  نے کہا کہ کب ایسا ہوا کہ جو کالعدم تنظیمیں  یا دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں نہیں ہوتی تھیں،افغانستان تو ایسی تنظیموں کے لیے سیف ہیون تھا یہ اصطلا ح ہم نے تھوڑی ایجاد کی تھی بلکہ اقوام متحدہ میں مختلف ممالک نے کہا  تھا کہ افغانستان دہشتگرووں کے لیے سیف ہیون ہے،اب اگر ہم ان کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو افغان حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اب اس خطے میں ہم ہی تو آپ کے دوست رہ گئے ہیں.

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ''فتنہ الخوارج''کے خلاف کامیاب آپریشن پر پاک فوج کو خراج تحسین

 اگر پاکستان سے بھی تعلقات خراب کر لیتا ہے تو وہ مزید تنہائی کا شکار ہو جائےگا؟

 اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تنہائی کا شکار تو پہلے ہی ہے پاکستان کے علاوہ اور کتنے ممالک ہیں جن کے ساتھ افغانستان کے تعلقات ہیں،کتنے ممالک ہیں جنہوں نے طالبان حکومت کو تسلیم   کیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان سے کوئی ایسے ناجائز مطالبات نہیں کر رہے  جو کہ ان کے قومی مفاد کے خلاف ہو ہم تو وہ مطالبہ کر رہے ہیں جو خود کابل حکومت کے حق میں ہے،اس لیے کے داعش ، ٹی ٹی پی  اور دیگر بہت ساری جماعتیں اگر  وہاں رہیں گی تو ایک دن وہ کابل حکومت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں ۔

 قومی انسدادِ پولیو مہم تیسرے روز بھی کامیابی سے جاری

 تحریک لبیک کا  احتجاج غزہ کے لیےنہیں تھا، سلیم بخاری  کا انکشاف؛

 سلیم بخاری نے کہا کہ یہ کونسا مسئلہ ہےکہ فلسطینی خوشیاں منارہے ہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے جا رہے ہیں، مٹھائی تقسیم ہو رہی ہے  اور ہم احتجاج کر رہے ہیں،جنگ بندی پر فلسطینی سجدہ ریز ہوئے اور ہمارے ملک میں پُرتشدد احتجاج کیا گیا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی نمائندے کہ رہے ہیں کہ مذاکرات ان کے نکلنے سے پہلے سے آخری منٹ تک ہوتے رہے، مذہبی جماعت کے اعلیٰ عہدیداران خود بتائیں گے کہ مذاکرات ہوئے، ہر دفعہ انہیں یہی کہا گیا کہ واپس چلے جائیں آپ کو کچھ نہیں کہا جائےگا، ہر دفعہ ان کی شرائط بڑھتی جارہی تھیں۔

کراچی: انٹرمیڈیٹ بورڈ نے امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا

 انہوں نے کہاکوئی ان سے پوچھےکہ کیا ان کی شرائط فلسطین کے لیے تھیں؟ ان کی ریلی فلسطین کے لیے تھی یا کچھ لوگوں کی رہائی کے لیے تھی؟ یہ لوگ دہشتگردوں کی رہائی چاہتے تھے،دوسرا وہ ڈپلومیٹک انکلیو میں امریکن ایمبیس کے سامنے احتجاج کرنا چاہتے تھے جو کہ ریڈ زون ہے وہاں پر مین سٹریم پارٹیوں کو جانے کی اجازت نہیں تو ان کو کیسے اجازت مل سکتی تھی۔

  انہوں نے کہا فلسطین کا مسئلہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ تھا،دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں احتجاج  ہوئے،الحمداللہ اب مسئلہ حل ہوگیا ہے،اس میں پاکستان کا بھی کردار ہے،اب فلسطین کا معاہدہ ہوگیا،قتل و غارت بھی بند ہوگئی ہے ۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات،تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری پر گفتگو

 سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے لیکن  کیا حکومت کسی کو قتل وغارت کی اجازت  دے سکتی ہے،ہر شخص کی جان ومال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، مذہبی جماعت کے جتھے میں کوئی علما نہیں تھے، جتھے نے پولیس پر گولیاں برسائیں، نجی املاک کو نقصان پہنچایا،کسی بھی مسجد، مدرسے، عالم دین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی، صرف  پرتشدد مذہبی جماعت کے جتھے کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

 پنجاب حکومت کی جانب سے  انتہا پسند جماعت پر پابندی کیلئے وفاق کو سفارش کرنے کے فیصلہ؛ 

   اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ ایسا عوام کے مفاد میں ہے جس کے مطابق پنجاب حکومت وفاقی حکومت کو انتہا پسند جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرے گی،انتہا پسند جماعت کی قیادت کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

 پولیس افسران کی شہادت،سرکاری املاک کی تباہی میں ملوث رہنماؤں اور کارکنوں پر مقدمات چلیں گے، انتہا پسند جماعت کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دی جائیں گی،انتہا پسند جماعت کے پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل پابندی ہو گی،نفرت پھیلانے والی انتہا پسند جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے، انتہا پسند جماعت کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔

 سلیم بخاری نے کہا کہ یہ اقدامات امن و امان کے لیے پنجاب حکومت کا احسن اقدا م ہے۔

 وزیر اعلیٰ کے پی کی بانی سے ملاقات، سلیم بخاری نے حمایت کر دی؛

 وزیراعظم  اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ٹیلیفونک رابطے اور وزیر اعظم کی جانب سے وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر سہیل آفریدی کو مبارکبادپر  سلیم بخاری نے وزیر اعظم کے  اس اقدام کو سراہا  اور جمہوریت کے لیے مثبت قدم قرار دیا۔

 سہیل آفریدی کو بانی سےجیل میں  ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر بات چیت کرتے ہوئے سلیم بخاری  نے کہا کہ اگرقوانین اس کی اجازت دیتے ہیں تو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے،وزیر اعلیٰ کے پی کی بانی سے ملاقات ضرور کرانی چاہیے۔

Waseem Azmet

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: انتہا پسند جماعت سلیم بخاری نے پنجاب حکومت کر رہے ہیں نے کہا کہ جماعت کے قیادت نے کی اجازت انہوں نے کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا