پنجاب حکومت نے حالیہ پرتشدد مارچ کے تناظر میں ریاست کی رٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹی ایل پی کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا جبکہ جماعت کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی احتجاج: ’ریاست اور عوام پر حملہ کرنے والے مظلوم نہیں‘

پنجاب حکومت کے اس اقدام کو سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے مثبت انداز میں سراہا جا رہا ہے اور ملک بھر میں ٹی ایل پی پر پابندی کے حوالے سے تحریک بھی زور و شور سے شروع ہو چکی ہے۔

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ میں نے لاہور، قصور، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کے 30 سیاستدانوں سے رابطہ کیا کہ ان کے حلقے میں کتنے لوگ مارے گئے، سوائے ایک سابق ایم پی اے کے جس نے کہا کہ ان کے حلقے میں ایک شخص مارا گیا، باقی سب کہتے ہیں، ’یہاں تو نہیں ہوئی لیکن وہاں ہوئی، وہاں والے کہتے ہیں نہیں یہاں تو نہیں وہاں ہوئی‘۔ یعنی اصل میں سب یہی کہتے ہیں کہ ٹی ایل پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔

I called 30 politicians of Lahore, Kasur, Sheikhupura and Gujranwala districts to know how many killed in their constituency except one former MPA who said one person of his constituency got killed everyone says “ yahan tou nai hui but Wahan hui wahan wala kehta hai nai yahan tou…

— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) October 16, 2025

مبشر زیدی لکھتے ہیں کہ میں پنجاب حکومت کی وفاق سے ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے درخواست کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ پاکستانی سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

I fully support Punjab government's request to federal to ban TLP.

Violence should have no place in Pakistani politics #BanTLP

— Mubashir Zaidi (@xadeejourno) October 16, 2025

عاطف توقیر نے کہا کہ خبریں ہیں کہ مریم نواز کی حکومت کی جانب سے وفاق کو تجویز دی جا رہی ہے، تحریک لبیک پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اگر یہ خبر درست ہے، تو پنجاب حکومت کا یہ انتہائی بڑا اور غیرمعمولی کارنامہ ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ کسی بھی پرتشدد اور مسلح جتھے کے لیے کسی قسم کی کوئی معافی نہ ہو۔ سماجی فیبرک کو تباہ کرنے والوں اور پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلانے والوں سے مذاکرات اور معاہدے ہماری تاریخ کے سیاہ باب ہیں۔ یہ سلسلہ نہ رکا تو نہ سماج رہے گا نہ فیبرک۔

خبریں ہیں کہ مریم نواز کی حکومت کی جانب سے وفاق کو تجویز دی جا رہی ہے، تحریک لبیک پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اگر یہ خبر درست ہے، تو پنجاب حکومت کا یہ انتہائی بڑا اور غیرمعمولی کارنامہ ہو گا۔
مرد سیاست دان ملاؤں کے خوف سے جو کام نہیں کر سکے یا قائم نہیں رہ سکے، وہ ایک خاتون کر…

— Atif Tauqeer (@atifthepoet) October 16, 2025

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے متعدد علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کے دفاتر کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد ٹی ایل پی دفاتر پنجاب حکومت ٹی ایل پی ٹی ایل پی پابندی سعد رضوی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت ٹی ایل پی ٹی ایل پی پابندی سعد رضوی پر پابندی عائد پنجاب حکومت تحریک لبیک ٹی ایل پی کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی