وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اعلان کے باوجود ائیر ایمبولینس منصوبہ شروع نہ ہوسکا
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کےاعلان کے باوجود ائیر ایمبولینس منصوبہ شروع نہ ہوسکا۔ذرائع کے مطابق ائیر ایمبولینس منصوبےکیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں رقم مختص کی گئی تھی لیکن کرم تنازع کے دوران بھی سرکاری ہیلی کاپٹر کو بطور ائیر ایمبولینس استعمال نہیں کیا جاسکا۔ذرائع نے بتایا کہ ہیلی کاپٹرکرم سے زخمیوں کو لانے اور لوگوں کو منتقل کرنےکیلئے استعمال کیا گیا۔صوبائی سیکرٹری صحت کا کہنا ہےکہ ائیر ایمبولینس کی سمری وزیراعلیٰ کے پی کو بھیج دی ہے، منصوبے پر 8 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور فنڈز ڈی جی ایوی ایشن کو فراہم کریں گے۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے سمری کی منظوری ملتے ہی منصوبہ شروع کیاجائےگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ائیر ایمبولینس
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔