کراچی؛ نماز فجر کے بعد واپس گھر جانے والا نوجوان ڈکیتوں کی فائرنگ سے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
کراچی:
کورنگی سیکٹر اکیاون سی جنجال پورا میں مسلح ڈکیتوں نے نماز فجر کی ادائیگی کے بعد گھر جانے والے نوجوان کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا، مسلح ڈکیتوں نے نوجوان کو قتل کرنے سے قبل 3 گھروں میں ڈکیتی کی واردات بھی کی۔
تفصیلات کے مطابق بدھ کی صبح زمان ٹاؤن تھانے کے علاقے کورنگی سیکٹر اکیاون سی جنجال پورا رومیو اسکول کے قریب مسلح ڈکیتوں نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو قتل کر دیا اور فرار ہوگئے۔
مقتول نوجوان کی لاش قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی جس کی شناخت 17 سالہ مظفر اقبال ولد مظہر اقبال کے نام سے کی گئی۔ مقتول نوجوان کا ایک بھائی اور 4 بہنیں ہیں جو راج مستری کا کام کرتا تھا جبکہ مقتول کا آبائی ضلع راجن پور سے تھا۔
واردات کی اطلاع ملنے پر پولیس بھی موقع پر پہنچی اور پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرکے واردات کی تفتیش شروع کر دی۔
مقتول کے اہلخانہ کے مطابق مقتول نماز فجر کی ادائیگی کے بعد مسجد سے واپس گھر آ رہا تھا کہ گھر کے قریب مسلح ڈکیتوں نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا، مقتول نوجوان کو ایک گولی سر میں لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی، جوان بیٹے کے قتل پر مقتول نوجوان کی والدہ کو غشی کے دورے پڑنے لگے جبکہ نوجوان کی والدہ نے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
مقتول نوجوان کے بڑے بھائی حافظ ظفر اقبال نے بتایا کہ چھوٹا بھائی مظفر فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد واپس گھر آرہا تھا کہ گھر کے قریب مسلح ڈکیتوں نے اسے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
مقتول کے بھائی نے بتایا کہ بھائی کو قتل کرنے سے قبل مسلح ڈکیتوں نے تین سے زائد گھروں میں ڈکیتی کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے، بتایا جائے کہ ہمارے بھائی کا کیا قصور تھا اور اسے کیوں قتل کیا گیا؟
علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ شہر کی یہ صورتحال ہوگئی ہے کہ نماز پڑھنے جانے پر پابندی ہوگئی ہے، نوجوان نماز پڑھ کر گھر آرہا تھا کہ اسے ڈکیتوں نے پیچھے سے گولی مار دی۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں جرائم کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور لوگ گھروں سے موبائل فون لیکر نکلتے ہوئے ڈرتے ہیں، مسلح ڈکیت گھروں کی دہلیز سے موبائل فون چھین کر فرار ہو جاتے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ مسلح ڈکیت پچھلی گلی میں گھر میں ڈکیتی کرکے فرار ہو رہے تھے اور مقتول نوجوان مسجد سے اپنے گھر جا رہا تھا کہ مقتول نے مبینہ طور پر ڈکیتوں کو دیکھ کر انہیں پہچان لیا، مقتول نے پہلے بھاگ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی تاہم ڈکیتوں نے اسے عقب سے گولی مار دی اور فرار ہوگئے، مسلح ڈکیتوں کی تعداد 8 سے زائد تھی۔
محمد ذوہیب نامی نوجوان نے بتایا کہ نوجوان مظفر اقبال کو قتل کرنے سے قبل صبح ساڑھے 6 بجے کے قریب 6 سے زائد مسلح ڈکیت گھر کے زینے کی مدد سے گھر میں داخل ہوئے جبکہ ہم گھر والے سو رہے تھے، مسلح ڈکیتوں نے شناخت چھپانے کے لیے ماسک لگایا ہوا تھا۔ مسلح ڈکیتوں نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کیا اور ہم نے گھر کا مرکزی دروازہ کھول دیا تو مسلح ڈکیتوں نے گھر میں موجود افراد کو ایک کمرے میں دیوار کی جانب منہ کرکے بٹھا دیا اور گھر کے کمروں کی تلاشی لینا شروع کر دی۔
نوجوان نے مزید بتایا کہ مسلح ڈکیت واردات کے دوران طلائی زیورات، 5 لاکھ روپے کی نقدی، 5 موبائل فونز، موٹر سائیکل، رضائیاں اور گھر کے برتن بھی ساتھ لے گئے، مسلح ملزمان موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جن کی تعداد 6 سے زائد تھی جبکہ 2 مسلح ڈکیت گھر کی پچھلی گلی میں موجود تھے اور دوسری جانب الگ ڈکیت کھڑے تھے۔
دوسری جانب، ایس ایس پی کورنگی کامران خان نے ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان کے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او زمان ٹاؤن رضوان قریشی اور تصویر محل پولیس چوکی کے انچارج نعمان کو معطل کر دیا۔
واضح رہے کہ سال 2025 کے 15 دنوں میں ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران مسلح ڈکیتوں کی فائرنگ سے 3 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، ڈکیتی مزاحمت پر 2 واقعات زمان ٹاؤن اور ایک واقعہ اسٹیل ٹاؤن تھانے کی حدود میں پیش آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مقتول نوجوان فائرنگ کرکے قتل کر دیا نوجوان کو کو قتل کر کے قریب کے بعد گھر کے کے قتل
پڑھیں:
طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف گروہوں نے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق ’فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم راستوں پر نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پرتشدد واقعات، سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین الگ الگ حملوں میں قتل
ادھر صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں حالیہ مزاحمتی کارروائی کے بعد ضلع زیبک سے بھی طالبان مخالف حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹاپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی چیک پوسٹوں کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق لڑائی قریبی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل ’سپاہیانِ میہن‘ نامی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے یفتل میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفاتر پر قبضہ کرکے طالبان کا پرچم اتار دیا، اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان کی اضافی نفری پہنچنے پر علاقے کا دوبارہ کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تازہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدخشاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم دباؤ والے علاقے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بار بار ہونے والی مزاحمتی کارروائیاں طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی اور صوبے پر گرفت کو چیلنج کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان بدخشاں طالبان فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ