Daily Ausaf:
2026-07-24@14:35:57 GMT

مذاکرات کمیٹی ڈرامہ

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT

سچی بات یہ ہے کہ جب تک رانا ثناء اللہ اور عرفان صدیقی صاحب موجود ہیں اور سیاسی صورت حال کا حصہ ہیں اس وقت تک پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی ، جتنی مرضی کمیٹیاں بنالیں ،جتنے مرضی وفد تیار کر لیں ،ایسا ممکن ہی نہیں ۔
یہی معاملہ پی ٹی آئی کا ہے کہ جب تک بانی تحریک انصاف خو د کو عقل کل سمجھنے کے غرے سے نہیں نکلتے ،کسی اور پر اعتبار کرنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا نہیں کرتے ،اس حوالے سے سب پانی میں مدھانی مارنے کے مترادف ہے۔
دراصل معاملہ یہ ہے کہ ن لیگ سمجھتی ہے اس کے پاس عرفان صدیقی سے بڑا دماغ نہیں ہے اور رانا ثنااللہ سے زیادہ بصیرت کا حامل کوئی سیاستدان نہیں ہے ۔اس وقت تک ملک میں سیاسی تنائو ایسا ہی رہے گا جیسا موجود ہے اور پی ٹی آئی والے جب تک کپتان کوکسی پروہت کے درجے سے نیچے کا انسان نہیں گردانتے، ملک اسی طرح سیاسی انتشار کی دلدل میں پھنسا رہے گا۔
کانوں کا کچا کپتان کچھ عرصے کے لئے شیر افضل مروت اور بیرسٹر گوہر کو کشادہ دست بنا نہیں دیتا توامکان کے سب در بند رہیں گے، اور حقیقت تو یہ بھی ہے کہ شہباز حکومت نے اب کسی نہ کسی طور معیشت کے بے لگام گھوڑے کو لگام ڈال ہی لی ہے۔ان دنوں آٹا دال اور گھی نہ سہی سبزیوں اور پھلوں کو تو بگھیاڑوں کے پنجوں سے نجات کی راہ نکال ہی لی ہے ،ٹماٹر جو تین سو روپے کل تک پہنچ گئے تھے جنوبی پنجاب میں ایک سو روپے کلو سے بھی نیچے آگئے ہیں ،اسی طرح دوسری سبزیوں کا حال ہے ،گویاکہ مہنگائی کے جن کو کسی حد تک بوتل میں بند کرلیا ہے ۔
پنجاب کی مہارانی مریم نواز پنجاب کے عوام کو رام کرنے میں زینہ زینہ کامیابی کی اور روانہ ہیں ۔اچھا ہے کہ وہ رانا ثناء اللہ اور عرفان صدیقی جیسے مشیر نہیں رکھتیں بھلے ان کے منصوبوں کی غلط تشریح کرنے کے لئے عظمی بخاری ہی کافی ہیں جو مبالغہ آرائی میں مہارت رکھتی ہیں اور اچھی بھلی خبط عظمت کا شکار بھی دکھائی دیتی ہیں ۔ وزیراعلیٰ اگر انہیں کے مشورں کے حصار میں ہوتیں تو بہت سارے کرنے کے کام رہ جاتے جو مریم بی بی بہت عمدہ طریقے سے انجام دے رہی ہیں۔
ایک بات جو سمجھ میں نہیں آنے والی ہے وہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی ہو یا پی ایم ایل این دونوں جانب کے سفارتکار سیاسی تدبرسے زیادہ سیاسی زعم میں ہی مبتلا ہیں اور لفظوں کے بیوپاری کا کاروبار تو افغان امریکہ جنگ میں چل نکلا تھا انہیں زیبا نہ تھا کہ فارم سینتالیس والوں کی حکومتوں کو الفاظ کے تاج محلوں کی زینت بنانے کی ہررت میں طلسماتی کردار اداکر کے فسطائیت کے راستے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے ،مگر میں نے بہت قریب سے دیکھا کہ ان کی بھی بہت مجبوریاں ہیں انہیں مجبوریوں کے بیچ دبئی اور سعودی عرب کے ایک مجرم نے اپنا راستہ کیا بنایا کہ قومی اسمبلی کا رکن بن بیٹھااور جن کامعاشی قتل کیا وہ آج تک اسے بددعائیں دے رہے ہیں۔
یقینا ان بد دعائوں کا اثر اس پر بھی تو پڑتا ہوگا جو سونے کا چمچ لے کر تو پیدا نہیں ہوا تھا مگر سیم زر اگلتے عہدوں پر تو رہ چکا اور ابھی تک انہیں مناصب کے سحر میں ہے جو اسے کسی پل چین نہیں لینے دیتا اور رانا ثناء اللہ کو یہ فکر دامن گیر ہے کہ مذاکراتی کمیٹی تشکیل نہیں دی جا سکتی ،کیونکر تشکیل کے عمل سے آشنا ہوجائے ؟ ایسا ہوگا تو ان کی اور بہت سے دوسرے لوگوں کی سیاست کی کتاب بند ہوجائے گی۔ان کی معیشت تنگ ہوجائے گی۔معاشرت تہہ و بالا ہوجائے گی۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ دونوں طرف سے مذاکرات کمیٹی کا ڈرامہ چلتے رہنا چاہیئے ،یہ رک گیا تو عالمی سطح پر کپتان کی شہرت کا جادو پھر سے جاگنے لگ جائے گا۔
اور وہ جنہیں یہ خطرہ لاحق ہے کہ ٹرپ کوئی طوفان لے آئے گا ان کی ذہنی اذیت بڑھ جائے گی ،حالانکہ ٹرمپ بھی جانتا ہے کہ کپتان نے اسے ہی للکار کر کہا تھا’’ ہم کوئی غلام ہیں ‘‘ یہ الگ بات ہے کہ اب اس نعرے کو حرز جاں بنانے والے سب ایرے غیرے مراجعت پر تلے ہوئے ہیں اور وہ جن کی مظاہروں کے وقت ہوا نکل جاتی ہے وہ بھی اس خوش فہمی میں برے طریقے سے پھنسے ہوئے ہیں کہ ان کی تبدیلی کا خواب اب ٹرمپ ہی پورا کرے گا۔ان سے کوئی پوچھے پھر تمہارے بڑے جس مذاکرات کمیٹی کا ڈرامہ رچائے ہوئے ہیں اس کا کیا بنے گا ،جبکہ بیرسٹر گوہر تو اب بھی مصر ہیں کہ’’ اسٹیبلشمنٹ ڈائریکٹ ان سے بات کرے‘‘ اور اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے یو ٹرن لیتے دیر ہیں لگتی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی ہیں اور

پڑھیں:

جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور پارٹی کی تنظیمی سیاست کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہونے والے امیرالعظیم کو جمعرات کے روز لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

ان کی نماز جنازہ منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پڑھائی، جس میں جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی قیادت، کارکنوں، مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کی جماعت اور ملک کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک بااصول، مدبر اور مخلص رہنما قرار دیا۔

طلبہ سیاست سے قومی قیادت تک کا سفر

3 اکتوبر 1958 کو لاہور کے علاقے اسلام پورہ (کرشن نگر) میں پیدا ہونے والے امیرالعظیم کا خاندان 1947 میں مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی، اسلامیہ کالج سول لائنز سے گریجویشن کیا اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے سنہ 1975 میں زمانۂ طالب علمی کے دوران سیاست اور جماعت اسلامی سے وابستگی اختیار کی جبکہ سنہ 1977 میں باقاعدہ جماعت اسلامی کے رکن بنے۔

مزید پڑھیے: خصوصی دعوت پر حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم ملائیشیا انور ابراہیم سے ملاقات

ان کا سیاسی سفر جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے شروع ہوا جہاں وہ پہلے لاہور کے ناظم منتخب ہوئے اور بعد میں ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے منصب تک پہنچے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہے اور سنہ 1980 کی دہائی میں طلبہ حقوق اور نمائندگی کی مختلف تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کیا۔

جیل میں بھی تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے

سنہ1983  میں وہ جماعت اسلامی پنجاب کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ فوجی دور میں سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

لاہور-امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم رحمۃ اللہ علیہ کے شرکائے اجتماع جنازہ سے خطاب کر رہے ہیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ امیرالعظیم نے تمام زندگی اقامت دین کی جدوجہد کی ، وہ بہترین اخلاق کے مالک اور انسانوں کے ہمدرد تھے، وہ… pic.twitter.com/wjshlf58z7

— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) July 23, 2026

جیل کے دوران بھی انہوں نے جماعتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور 2 مرتبہ جماعت اسلامی کی جیل شاخ کے امیر منتخب ہوئے۔ اکتوبر 1988 میں رہائی کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی میں مختلف اہم تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

جماعت اسلامی میں اہم مناصب

امیرالعظیم نے مختلف ادوار میں جماعت اسلامی لاہور کے امیر، مرکزی سیکریٹری اطلاعات و نشریات، لاہور کے سیکریٹری جنرل اور بعد ازاں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

اپریل 2019 میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا جہاں وہ اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔

تنظیمی سیاست کے معمار

اگرچہ امیرالعظیم نے انتخابی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے تنظیمی میدان کو ترجیح دی تاہم انہیں جماعت اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے پارٹی میں ادارہ جاتی نظم، نظریاتی تربیت اور تنظیمی نظم و ضبط کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا اور کئی نسلوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کی تربیت کی۔

فکری اور صحافتی خدمات

تنظیمی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ امیرالعظیم جماعت اسلامی کے فکری اور ابلاغی شعبوں سے بھی وابستہ رہے۔ وہ جماعت کے جریدے چشم نو کے مدیر رہے جبکہ فیوچر وژن کمیونیکیشنز کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا اظہار افسوس

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک بااصول، صاحب بصیرت اور مخلص رہنما تھے جنہوں نے طویل علالت کے باوجود جماعت کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔

مزید پڑھیں: طارق رحمان کی امیر جماعت اسلامی سےملاقات، مثبت سیاسی تعلقات کو فروغ دینے پر زور

جماعت اسلامی نے اپنے بیان میں امیرالعظیم کو سادگی، دیانت داری، فکری گہرائی اور کارکنوں سے قریبی تعلق رکھنے والا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات جماعت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امیرالعظیم انتقال امیرالعظیم کی تدفین جماعت اسلامی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف