پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ اگلے 48 گھنٹوں میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جس میں کیس کے فیصلے کے بعد سیاسی اور قانونی آپشنز پر غور کیا گیا۔ فیصلہ دینے والے جج کے کنڈکٹ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق لیگل ٹیم نے بریفنگ میں بتایا کہ 190 ملین پاونڈز کیس کے فیصلے میں بہت قانونی سقم ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ سنانے والے جج سے متعلق سپریم کورٹ فیصلے کو ریکارڈ کا حصہ بنانے پر غور کیا گیا۔کور کمیٹی کو حکومت پی ٹی آئی مذاکرات پر بھی اعتماد میں لیا گیا۔ ارکان کا مطالبہ تھا کہ کور کمیٹی کا اجلاس ہر ہفتے بلایا جائے کیونکہ ہمیں بس میڈیا سے تمام باتوں کا پتہ چلتا ہے.

لہٰذا ارکان کو اعتماد میں لیا جائے۔ارکان نے رائے دی کہ حکومت مذاکرات سے فرار چاہتی ہے ان کا رویہ غیر جمہوری ہے. ان کو لگتا تھا کہ بانی تحریک انصاف مذاکرات کی ٹیبل پر نہیں آئیں گے۔عمر ایوب نے کہا کہ تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود ہم مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں اور حکومتی مطالبے پر اپنے مطالبات تحریری طور پر بھی دے دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق بانی تحریک انصاف کو سزا کے فیصلے کے بعد احتجاج نہ کرنے پر عالیہ حمزہ نے تنقید بھی کی۔عالیہ حمزہ نے کہا کہ پارٹی نے فیصلے کے خلاف کوئی احتجاج کیوں نہیں کیا.ہمیں صرف بانی تحریک کی رہائی چاہیے۔ ارکان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر 8 فروری کو بھرپور احتجاج کیا جائے۔وزیراعلیٰ کے پی گنڈا پور سے مشاورت کے بعد پارٹی سطح پر انتظامات کو جلد حتمی شکل دیئے جانے پر اتفاق کیا گیا۔

واضح رہے کہ 17 جنوری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ مجرمہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی. جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔عمران خان پر 10 لاکھ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے. جرمانے کی عدم ادائیگی پر عمران خان کو مزید 6 ماہ جبکہ بشریٰ بی بی کو 3 ماہ کی قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی بھی سرکاری تحویل میں لینے کا حکم جاری کیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کا فیصلہ کے فیصلے کیا گیا کے بعد

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • دُنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم