نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں خاص بات کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ مکمل طور پر فعال ہوچکا ہے، گزشتہ روز افتتاحی پرواز پی کے 503 کراچی سے گوادر پہنچی تھی جس کو واٹر کینن سے سلامی دی گئی۔
4300 ایکڑ پر محیط یہ ایئرپورٹ جدید کنٹرول سسٹمز اور سیکیورٹی سہولیات سے لیس ہے اور ملکی و بین الاقوامی پروازوں کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اسے سی پیک منصوبے کا اہم سنگ میل قرار دیا، جو بلوچستان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
مزید پڑھیں: نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہلی پرواز لینڈ کر گئی، وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسافروں کا استقبال کیا
یہ ایئرپورٹ دسمبر 2024 میں مکمل ہوا۔ تاہم، ملکی و بین الاقوامی پروازوں کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ یہ گوادر سمیت پاکستان کی معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ گزشتہ روز اس کی افتتاحی تقریب میں گورنر بلوچستان، وزیر دفاع خواجہ آصف، اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے شرکت کی اور مسافروں کا پرتپاک استقبال کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ نیو گوادر انٹرنیشنل
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔