بھارت کے شہر حیدرآباد میں سفاک سابق فوجی نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو قتل کرنے کے بعد اس کے جسم کے ٹکرے کیے اور انہیں پریشر ککر میں ابال کر اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔

بھارتی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن میں بطور سیکیورٹی گارڈ کے فرائض انجام دینے والے 45 سالہ سابق فوجی  گرو مرتی نے مبینہ طور پر پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔

35 سالہ وینکاٹا مادھوی کے خاندان نے 16 جنوری کو اس کے لاپتا ہونے کی رپورٹ کرائی،  جب پولیس نے تفتیش شروع کی تو  اس کے شوہر پر شک ہوا، اس کے بعد جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے سنگین جرم کا اعتراف کر لیا۔

پولیس انسپکٹر ناگا راجو نے کہا کہ خاتون کے والدین نے گمشدگی کی شکایت درج کرائی تھی، مقتولہ کا شوہر بھی ان کے ساتھ آیا تھا، ہمیں شک ہوا اور اس سے پوچھ گچھ کی، اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔"

رپورٹ کے مطابق اس شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کی لاش کے باتھ روم میں ٹکرے کیے اور انہیں پریشر ککر میں ابالا، اس نے ہڈیاں الگ کیں، ہڈیوں کو کوٹنے کے بعد دوبارہ ابالا، وہ  3 دن تک گوشت اور ہڈیاں پکاتا رہا، اس کے بعد مبینہ طور پر اس نے انہیں پیک کر کے جھیل میں پھینک دیا۔ 

رپورٹ کے مطابق ملزم کے دعووں کی تصدیق کی جا رہی ہے، جوڑے کے دو بچے ہیں جن ہیں ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دونوں میں اکثر جھگڑا رہتا تھا، اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ مبینہ قتل کیوں اور کیسے ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے