امریکی ریاست الاسکا کے فوجی اڈے پر لڑاکا طیارے کو خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے الاسکا ملٹری بیس پر F-35 جیٹ طیارہ قلابازیاں کھاتے ہوئے زمین بوس ہوگیا اور اس میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔

حادثے کا شکار ہونے والے لڑاکا طیارے نے معمول کی تربیتی مشق کے لیے پرواز بھری تھی جس میں ایک پائلٹ موجود تھا۔

امریکی فوج کے 354 ویں فائٹر ونگ کے کمانڈر کرنل پال ٹاؤن سینڈ نے بتایا کہ پائلٹ کو اڑان بھرنے کے بعد ہی طیارے میں فنی خرابی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

        View this post on Instagram                      

A post shared by Hoist Operators Union (@hoist_operators_union)

انھوں نے مزید بتایا کہ پائلٹ نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کو ایسے محفوظ مقام پر گرنے کے لیے چھوڑا جہاں زمین پر کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔

اس دوران پائلٹ بھی طیارے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور پیراشوٹ کے ذریعے بحفاظت زمین پر اتر گئے۔

امریکی فضائیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔

یاد رہے کہ جدید ترین امریکی فوجی طیارے ایف-35 میں مسلسل 12 گھنٹے سے زیادہ پرواز کرنے کی صلاحیت ہے اور وہ شمالی نصف کرہ میں تقریباً کہیں بھی پہنچ سکتا ہے۔

رواں برس مئی میں ایک اور F-35 لڑاکا طیارہ ٹیکساس سے لاس اینجلس کے قریب ایڈورڈز ایئر فورس کے اڈے جاتے ہوئے اس وقت گر کر تباہ ہو گیا جب پائلٹ نیو میکسیکو میں ایندھن بھرنے کے لیے رکا تھا۔

اسی طرح اکتوبر 2023 میں بھی ایف-35 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پائلٹ نے طیارے سے باہر نکلنے کی غلطی کی جب کہ اُسے ایسا کرنے کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔

پائلٹ کے اس عمل کی وجہ سے لڑاکا طیارہ جنوبی کیرولینا کے دیہی علاقوں میں گرنے سے پہلے 11 منٹ تک بغیر پائلٹ کے پرواز کرتا رہا تھا۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی

چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔

چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ 

 

متعلقہ مضامین

  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا