سعودی فاسٹ فوڈ کمپنی ’البیک‘ جلد پاکستان میں برانچیں کھولے گی، وفاقی وزیر تجارت
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں موجودگی کے دوران آگاہ کیا ہے کہ سعودی فاسٹ فوڈ کمپنی ’البیک‘ نے پاکستان میں اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور توقع ہے کہ وہ بڑے شہروں میں اپنی فرنچائز کھولے گی۔
نجی اخبار میں شائع اے پی پی کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر تجارت نے البیک کے پلانٹس کا دورہ کیا، اور وہاں کام کرنے والے پاکستانی ملازمین سے ملاقات کی۔
دورے کے دوران، البیک نے تصدیق کی کہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد پاکستان میں آپریشن شروع کرنے کا اس کا منصوبہ اپنے آخری مراحل میں ہے۔
ہفتے کو اس حوالے سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پہلی میڈ ان پاکستان نمائش کے دوران ہونے والی بات چیت کاروباری تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور سعودی برانڈز کی پاکستانی مارکیٹ میں داخلے پر مرکوز رہی۔
سعودی عرب کے ممتاز تاجروں سے اہم ملاقات میں وفاقی وزیر نے پاکستان میں توانائی، زراعت، آئی ٹی، ہیلتھ کیئر، انفرااسٹرکچر اور کنزیومر گڈز میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
انہوں نے سعودی عرب کو پاکستان کی برآمدات میں 22 فیصد اضافے پر روشنی ڈالی، اور سعودی سرمایہ کاروں کو ٹیکس چھوٹ، سرمایہ کاروں کے تحفظ کے قوانین اور 24 کروڑ مضبوط صارفین کی مارکیٹ تک رسائی کے ساتھ کاروبار دوست ماحول کی یقین دہانی کرائی۔
سعودی بزنس کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات نے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ خاص طور پر تعمیراتی مواد، ٹیکسٹائل اور خوراک کی صنعتوں میں تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
ملاقات میں تجارتی شراکت داری اور صنعتی سرمایہ کاری بڑھانے کے حوالے سے متعدد تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں وفاقی وزیر نے انہیں پاکستان کا دورہ کرنے اور ٹی ای ایکس پی او، فوڈ اے جی اور ہیلتھ کیئر اینڈ منرل شو جیسی تجارتی نمائشوں میں شرکت کی دعوت دی۔
ملاقات میں پاکستان کی جانب سے کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے حالیہ اقدامات بشمول پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور نیشنل کمپلائنس سینٹر پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کا مقصد تجارتی ضوابط کو ہموار کرنا اور برآمدات کے معیار کو بڑھانا ہے۔
دورے کی ایک اہم بات وزیر جام کمال خان کی البیک کے مالک رامی ابو غزالہ سے ملاقات تھی، وزیر خارجہ کو البیکس آپریشنز کا دورہ کرایا گیا، جہاں انہوں نے فاسٹ فوڈ کمپنی میں کام کرنے والے پاکستانی ملازمین سے ملاقات کی۔
بات چیت کے دوران، البیک نے پاکستان میں اپنی توسیع کی تصدیق کی، یہ کہتے ہوئے کہ ایم او یو پر دستخط کے بعد یہ عمل اپنے آخری مراحل میں ہے، توقع ہے کہ پاکستان میں البیک کی ابتدائی شاخیں جلد کھلیں گی، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مضبوط ہوں گے۔
وفاقی وزیر نے البیک جیسے سعودی کاروباری اداروں میں پاکستانی کارکنوں کی خدمات کو سراہا، اور پاکستان میں برانڈز کی شمولیت کا خیر مقدم کیا، ملک کی فاسٹ فوڈ انڈسٹری اور کنزیومر مارکیٹ کو بڑھانے کے امکانات کو اجاگر کیا۔
ایک اور اہم ملاقات میں وفاقی وزیر نے جدہ میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کی، اور سعودی عرب کے معاشی منظرنامے میں ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کا اعتراف کیا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ 5 سال میں 17 لاکھ پاکستانیوں نے سعودی عرب کا سفر کیا، جس سے یہ پاکستانی تارکین وطن کے لیے سرفہرست منزل بن گیا۔
وفاقی وزیر نے گزشتہ مالی سال میں سعودی عرب سے بھیجی جانے والی 7 ارب 40 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر پر بھی روشنی ڈالی، اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط مالیاتی روابط پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جدہ میں قائم ہونے والا پاکستان انویسٹر فورم مارکیٹ میں داخل ہونے والے نئے افراد کی رہنمائی اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کاروباری تعاون کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے پاکستانی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ملک کی نظر ثانی شدہ ویزا پالیسی سے فائدہ اٹھائیں، جس کے تحت جی سی سی کے شہریوں کو 90 دن تک بغیر ویزا کے پاکستان میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر جام کمال خان کی جدہ میں مصروفیات نے سعودی عرب کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کو تقویت دی۔
سعودی کاروباری رہنماؤں کی جانب سے پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا اظہار کرنے سے لے کر البیک کی آئندہ توسیع تک، یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو گہرا کرنے میں ایک اہم قدم ہے۔
پاکستانی صنعتوں میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی دلچسپی، بڑھتے ہوئے تجارتی حجم اور نئی کاروباری شراکت داری کے ساتھ، پاک سعودی اقتصادی راہداری مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہے، جس سے دونوں ممالک کے لیے دلچسپ مواقع پیدا ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے وفاقی وزیر نے سرمایہ کاروں سعودی عرب کے پاکستان میں ملاقات میں نے پاکستان کے درمیان اور سعودی سے ملاقات کے دوران انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔