UrduPoint:
2026-07-24@10:34:14 GMT

سلمان رشدی کے قتل کی کوشش کے مقدمے کی سماعت شروع

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT

سلمان رشدی کے قتل کی کوشش کے مقدمے کی سماعت شروع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 فروری 2025ء) سن 2022 میں نیو یارک میں ایک اسٹیج پر ناول نگار سلمان رشدی کو وحشیانہ انداز میں چھرا گھونپنے والے شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت پیر کے روز نیویارک کی ایک کاؤنٹی عدالت میں شروع ہوئی۔

چوبیس سالہ حملہ آور ہادی ایم پر رشدی کو ایک درجن سے زائد مرتبہ چاقو گھونپنے کے لیے دوسرے درجے کی قتل کی کوشش اور سیکنڈ ڈگری حملے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ادھر ملزم نے قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی ہے۔

سلمان رشدی پر حملہ: ان کی آنے والی کتاب کی وجہ سے مقدمے کی سماعت میں تاخیر

اس مقدمے کے لیے پچھلے ہفتے ایک جیوری کا انتخاب کیا گیا تھا اور اس عمل کے دوران تین روز تک حملہ آور کو عدالت میں ہی رکھا گیا، جہاں وہ اپنے وکلاء سے صلاح و مشورہ کرتے رہے۔

(جاری ہے)

اس کیس کے تمام گواہوں کی گواہی ریکارڈ ہو جانے کے بعد، مقدمے کی سماعت ایک ہفتے سے 10 دن کے اندر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

ممنوعہ کتابوں کا ہفتہ: مطالعے کی آزادی کے لیے جدوجہد

استغاثہ نے الزام لگایا ہے کہ مشتبہ شخص نے "بغیر کسی ہچکچاہٹ کے" مصنف پر چاقو گھونپ دیا اور اس نے مسٹر رشدی کو تقریباً قتل کر دیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سلمان رشدی پر پیچھے سے اس تیزی سے اچانک حملہ کیا گیا کہ انہیں کچھ پتہ ہی نہیں چلا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔

سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم نے اقبال جرم نہیں کیا

مقدمے کے دوران رشدی اور حملہ آور کا آمنا سامنا ہو گا

یہ حملہ سن 2022 میں ہوا تھا، جس کے تقریبا دو برس بعد مقدمے کی سماعت کے دوران 77 سالہ سلمان رشدی پہلی بار اپنے حملہ آور کے روبرو ہوں گے۔

حملہ آور نے رشدی کے پیٹ اور گردن میں اس دوران کئی بار چھرا گھونپا، جب پولیس اہلکار اسے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ حملہ اس وقت ہوا تھا، جب مغربی نیویارک میں شوتاؤکا انسٹی ٹیوشن میں ہونے والی ایک ادبی کانفرنس کے لیے ہزاروں لوگوں جمع تھے۔

سلمان رشدی پر حملہ: ایران کی کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید

خون میں لت پت رشدی کو ہسپتال لے جایا گیا اور کئی گھنٹے تک ان کی سرجری ہوئی۔

اس حملے سے ان کے ایک ہاتھ اور آنکھ کو مستقل طور پر نقصان پہنچا اور اندرونی چوٹیں بھی آئی تھیں۔ رشدی مصنفین کو محفوظ رکھنے پر بات کرنے والے تھے

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی کی جانب سے رشدی کے ناول ''شیطانی آیات'' پر سن 1989 میں ان کے خلاف ''فتویٰ'' جاری کرنے کے بعد سے ہی انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روپوشی میں گزارا۔

سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ کب اور کیوں آیا؟

برسوں تک سخت حفاظتی تنہائی کے بعد رشدی گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دوبارہ آزادانہ طور پر سفر کرنا شروع کیا۔ انہوں نے ماضی میں اس بارے میں بات بھی کی تھی کہ کس طرح انہوں نے کبھی بھی خطرے سے خود کو محفوظ نہیں سمجھا۔

جب اگست 2022 میں ان پر حملہ ہوا، تو وہ مصنفین کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے بارے میں نیویارک کی کانفرنس میں بات کرنے والے تھے۔

مصنف سلمان رشدی حملے میں شدید طور پر زخمی ہوئے اور حالت اب بھی نازک ہے

رشدی نے گزشتہ سال ریلیز ہونے والی ایک یادداشت "چاقو: مراقبہ کے بعد اور قتل کی کوشش" میں اپنے قتل کی کوشش سے بچنے کے بارے میں تفصیلات لکھی تھیں۔

اس واقعے سے متعلق ایک الگ وفاقی فرد جرم میں ہادی ایم پر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس الزام میں کہا گیا ہے کہ وہ فتویٰ پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ص ز/ ج ا (اے پی، روئٹرز)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مقدمے کی سماعت قتل کی کوشش کے دوران حملہ آور پر حملہ رشدی کے رشدی کو کے لیے کے بعد

پڑھیں:

فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی

(شاہین عتیق) فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ریاست کے خلاف ٹویٹ کیس  کی سماعت دس ستمبر تک ملتوی ہوگئی۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے فلک جاوید اور صنم جاوید کے کیس کی سماعت  کی،عدالت میں اس بار بھی صنم جاوید کو جیل سے لاکر پیش نہیں کیا گیا جبکہ فلک جاوید کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت میں نیشنل کرائم ایجنسی ایف آئی اے نے درخواست دی کہ دونوں کے کیس کی سماعت جیل میں کی جاے،عدالت نے درخواست کو خارج کر تے ہوے قرار دیا کہ یہ کام ہوم ڈیپارٹمنٹ کا ہے ان سے رابطہ کریں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

عدالت میں ایف آئی اے نے صنم جاوید اور فلک جاوید کے خلاف چالان پیش کر رکھا ہے۔

  
 
 

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی