موجودہ پارلیمنٹ کے پہلے سال میں ارکان اسمبلی کی حاضری کتنے فیصدرہی؟رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
اسلام آباد: فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک(فافن) نے پہلے سال میں موجودہ پارلیمنٹ کے 12 ویں سیشن میں ارکان اسمبلی کی حاضری کارکردگی پر جائزہ رپورٹ جاری کردیا۔
رپورٹ کے مطابق سیشن کا انعقاد 13 سے 23 جنوری 2025 تک رہا جس میں ایوان کی 9 نشستیں ہوئیں جس میں صرف 36 ارکان تمام نشستوں میں شرکت کی اور 35 ارکان کسی بھی نشست میں نہ آئے۔
فافن نے اپنی جائزہ رپورٹ میں بتایا کہ سیشن کی 9ویں نشست میں سب سے زیادہ 241 (68 فیصد) ارکان حاضر ہوئے، سیشن کی 5ویں نشست میں سب سے کم 117 (37 فیصد) ارکان حاضر ہوئے جب کہ 277 ارکان (82 فیصد) ایسے تھے جو کم از کم ایک نشست میں حاضر نہیں ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 9 میں سے 8 نشستوں میں مرد ارکان کے مقابلے میں خواتین کی حاضری شرح بلند رہی، 96 ایم این ایز رخصت پر رہے، 181 ارکان بغیر باضابطہ درخواست دیے نہ آئے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن)، سنی اتحاد کونسل، پیپلزپارٹی کے اکثریتی ارکان نصف سے زائد نشستوں میں حاضر ہوئے، مسلم لیگ (ن) کے 13 فیصد، سنی اتحاد کونسل کے 8 فیصد، پیپلز پارٹی کے 11 فیصد ارکان کی حاضری 100 فیصد رہی۔
علاوہ ازیں، سیشن کے وقفہ سوالات میں 20 وزرا کی حاضری درکار تھی تاہم صرف 6 وزرا تمام متعلقہ نشستوں میں حاضر ہوئے جب کہ 5 وزرا کسی بھی نشست میں نہ آئےاور 9 وزراء نے کم از کم ایک نشست میں حاضری دی۔
فافن رپورٹ کے مطابق وزرا میں صرف وزیر ہاؤسنگ تمام نشستوں میں حاضر رہے ، وزیر صنعت اور وزیر آئی ٹی کی حاضری 89 فیصد رہی، وزیر میری ٹائم افیئرز کی حاضری 78 فیصد رہی جب کہ وزیراعظم نے صرف 2 نشستوں میں شرکت کی ، اپوزیشن لیڈر تمام نشستوں میں شریک ہوئے۔
علاوہ ازیں پارلیمانی لیڈرز میں سے سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت مسلمین کے لیڈر زتمام 9 نشستوں میں حاضر ہوئے، مسلم لیگ (ن) پارلیمانی لیڈر 6 نشستوں میں حاضر ہوئے جب کہ پیپلز پارٹی ، جے یو آئی ، بی این پی کے پارلیمانی لیڈرز کسی ایک نشست میں بھی شریک نہ ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نشستوں میں حاضر ہوئے کی حاضری
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔