پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 24 معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتیں ( ایم او یز) پر دستخط کردیے گئے جن کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دفاع سمیت مختلف شعبہ جات میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی، تقریب میں تجارتی حجم بڑھا کر 5 ارب ڈالر کی سطح پر لانے پر اتفاق ہوا ہے۔

 وزیراعظم ہاؤس میں تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، دونوں ممالک کے تجارت، دفاع اور دیگر شعبہ جات کے وفاقی وزرا و اعلیٰ حکام نے شرکت کی، تقریب میں دونوں ممالک نے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اعلامیہ پر دستخط کیے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امید ہے ترک صدر رجب طیب اردوان کا دورۂ پاکستان بہت مفید ثابت ہو گا، پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات ہیں، ترکیہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، دونوں قومیں یکساں تاریخی، مذہبی اور ثقافتی اقدار کی حامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر نے سیلاب کے دوران پاکستانی عوام کے دل جیت لیے، آج کے دورے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات نئی بلندیوں کی جانب جائیں گے۔

خبر میں مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ترکیہ کے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری