چلی کے جنوبی پیٹاگونیا کے سمندر میں وہیل نے ایک شخص کو کشتی سمیت نگل لیا۔ اس خوفناک واقعے کی ویڈیو متاثرہ شخص کے والد نے بنالی جو وائرل ہورہی ہے۔

چلی سے تعلق رکھنے والے ایڈریان سیمانکاس اپنے والد کے ساتھ جنوبی پیٹاگونیا علاقے میں میگلیلان آبنائے کے قریب کائیکنگ کررہے تھے کہ اچانک ایک ہمپ بیک وہیل نے ان کی کشتی کو نگل لیا۔

یہ واقعہ ہفتے کے روز چلی کے جنوبی پٹاگونیا علاقے میں میگیلان آبنائے کے قریب سان اسڈرو لائٹ ہاؤس کے پاس پیش آیا۔ حادثے کے وقت ایڈریان کے والد ان کی ویڈیو بنارہے تھے جس کے باعث اس خوفناک حادثے کی ویڈیو بھی کیمرے میں قید ہوگئی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بڑی وہیل ایڈریان سیمانکاس کو ان کی کشتی سمیت چند لمحوں کےلیے نگل لیتی ہے، لیکن کچھ دیر بعد ہی انھیں بغیر کسی نقصان کے چھوڑ دیتی ہے۔


’’میں نے سوچا کہ وہیل نے مجھے کھا لیا ہے‘‘

بین الاقوامی خبر رساں ادارے سی این این کو اس واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے ایڈریان سیمانکاس نے کہا کہ کائیکنگ کے دوران جب میں پیچھے مڑا تو مجھے اپنے چہرے پر ایک چپچپا پن محسوس ہوا اور دیکھا کہ گہرے نیلے اور سفید رنگ پیچھے سے آرہے ہیں۔ اس کے بعد وہ پانی میں نیچے کھنچتے گئے۔ اس لمحے، انہوں نے سوچا کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے اور انہیں لگا کہ وہ مرجائیں گے، حالانکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ کیا ہوا ہے۔

ایڈریان نے کہا، ’’میں نے سوچا کہ وہیل نے مجھے کھا لیا ہے اور نگل لیا ہے۔‘‘ تاہم، جلد ہی انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی لائف ویسٹ انہیں واپس اوپر کھینچ رہی ہے، اور چند سیکنڈز میں وہ سطح پر آگئے اور صورتحال کو سمجھنے لگے۔

یہ ویڈیو ایڈریان کے والد ڈیل نے دوسری کشتی سے ریکارڈ کی تھی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ وہیل کو پہلے سمندر کی خوبصورت لہر سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن بعد میں جب وہیل ان کے بیٹے کو نگلنے کے بعد دوبارہ اگل دیتی ہے تو وہ اپنے بیٹے کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں انہیں کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’پرسکون رہو، پرسکون رہو۔‘‘

ایڈریان نے بتایا کہ جب وہ سطح پر آئے اور تیرنے لگے، تو انہیں اپنے والد کے بارے میں فکر ہوئی کہ کہیں ان کے ساتھ کچھ ہوجائے، یا وہ ساحل تک بروقت نہ پہنچ سکیں، یا انہیں ہائپوتھرمیا ہوجائے۔ تاہم، واقعے کے بعد باپ اور بیٹے دونوں محفوظ طریقے سے ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔


’’کیا آپ دوبارہ کائیکنگ کریں گے؟‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ دوبارہ کائیکنگ کریں گے، تو باپ اور بیٹے دونوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا، ’’بالکل۔‘‘


ایک اور اسی طرح کا واقعہ

نومبر 2020 میں ایک اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تھا، جب ایک ہمپ بیک وہیل نے کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب دو کشتی رانوں کو تقریباً نگل لیا تھا۔ دونوں کائیکر وہیلز کو سلور فش کھاتے ہوئے دیکھ رہے تھے کہ اچانک ایک وہیل ان کی کشتی کے نیچے سے ابھری، جس سے کشتی الٹ گئی اور وہیل نے انہیں چند لمحوں کےلیے نگل لیا، لیکن وہ بغیر کسی نقصان کے بچ نکلے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وہیل نے نگل لیا

پڑھیں:

فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام

سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔

یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟

30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:

’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘

اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘

اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔

ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔

اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:

’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘

اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔

اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔

        View this post on Instagram                      

حقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟

اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔

ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔

اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:

’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘

"An Indian thrashed in Thailand." ????

A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.

As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF

— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) January 3, 2026

 

دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔

خبر کی سرخی تھی:

’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘

رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔

ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔

فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان