عمران خان نے شیر افضل کو پی ٹی آئی سے کیوں نکالا؟ سلمان اکرم نے وجوہات بتادیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجا نے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالے جانے کی وجوہات بتا دیں۔
نجی ٹی وی جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت کو میری وجہ سے نہیں نکالا گیا، ہمارا کوئی ذاتی یا نظریاتی اختلاف نہیں ہے، متعدد پارٹی رہنماو¿ں نے ان کےخلاف شکایت کی تھی۔سلمان اکرم راجا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت نے بد زبانی کی اور پارٹی پالیسی کے برعکس بیانات دیے، شیر افضل مروت نے سعودی حکومت، مذاکراتی عمل سے متعلق بھی متنازع بیانات دیے، ایسی صورت میں بانی پی ٹی آئی نے شیرافضل کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا، شیر افضل مروت نے تنقید یا مناظرہ کرنا ہے تو بانی پی ٹی آئی سے کریں۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا تھاکہ شیر افضل کے راستے میں نہیں کھڑا ہوں، نہ ان کے ساتھ کوئی مقابلہ ہے، بانی پی ٹی آئی شیر افضل مروت کو واپس لانا چاہیں گے تو واپس لائیں گے، بانی پی ٹی آئی ان کو باہر رکھنا چاہیں گے تو باہر رکھیں گے، میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔حکومت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق سوال پر سلمان اکرم راجا کا کہنا تھاکہ مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ حکومت کے پاس اختیار نہیں تھا، جو بانی پی ٹی آئی سے ایک ملاقات نہیں کرا سکے ان سے کیا مذاکرات کرتے، ہمارا مطالبہ یہی تھا کہ کھلے ماحول میں ملاقات ہو، ہم نے 9 مئی اور 26 نومبر سے متعلق کمیشن کا مطالبہ تھا،ان کا کہنا تھا مذاکرات کے نام پر ہماری تضحیک کی گئی اور مذاق اڑایا گیا، وہاں جانا، نشستیں کرنا سب بے نتیجہ تھے اس لئے آگے نہیں بڑھے۔
عمران خان کے آرمی چیف کو خط کے حوالے سے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی نے صرف آرمی چیف کو خط نہیں لکھا وہ کھلا خط تھا، آرمی چیف کو مخاطب کیا گیا لیکن ساتھ ہی ہر شہری کو مخاطب کیا گیا،
ظلم اور فسطائیت کو ختم کرنے کے لئے خط لکھا، جس جس کو خط پہنچنا تھا ان کو خط بالکل پہنچ گیا ہے، خط کو جنھیں پڑھنا چاہئے تھا انھوں نے پڑھ لیا ہے۔
چیمپئنز ٹرافی، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹاس ہو گیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا بانی پی ٹی آئی شیر افضل مروت کا کہنا تھا
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔