حکام نے سرینگر جامع مسجد میں میرے والد نسبتی کی نماز جنازہ ادا کرنیکی اجازت نہیں دی، میرواعظ عمر فاروق
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
میرواعظ کشمیر نے مسجد کیساتھ ساتھ چند تصاویر بھیجتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر حکام نے جامع مسجد کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ میرواعظ عمر فاروق کے ترجمان کے مطابق حکام نے حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کے والد نسبتی کی نماز جنازہ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ ان کے والد نسبتی ڈاکٹر غلام سبطین مسعودی طویل علالت کے بعد رات گئے سرینگر میں انتقال کر گئے۔ وہ نیشنل کانفرنس کے قانون ساز اور سابق ممبر پارلیمنٹ حسنین مسعودی کے بھائی ہیں۔ صبح میرواعظ منزل کے ایک بیان میں جامع مسجد کے احاطے میں نماز ظہر کے بعد نماز جنازہ ادا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے مسجد کے ساتھ ساتھ چند تصاویر بھیجتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر حکام نے جامع مسجد سرینگر کے دروازوں کو سیل کر دیا ہے اور اسے گھیرے میں لے لیا ہے اور بتایا ہے کہ جامع مسجد میں ڈاکٹر غلام سبطین مسعودی کی نماز جنازہ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ "میرواعظ منزل" حکام کی غم کے لمحات اور مذہبی رسومات میں بھی طاقت کے استعمال اور نمائش کی شدید مذمت کرتی ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سمیت کئی لوگوں نے میرواعظ عمر فاروق اور ایم ایل اے حسنین مسعودی کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میرواعظ عمر فاروق کے سسر ڈاکٹر سبطین مسعودی کے انتقال کی خبر سن کر افسوس ہوا، اللہ ڈاکٹر مسعودی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، میرواعظ اور ان کے چاہنے والوں سے تعزیت کرتا ہوں۔ میں جسٹس (ریٹائرڈ) مسعودی اور ان کے اہل خانہ کے لئے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کرتا ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میرواعظ عمر فاروق حکام نے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔