دبئی اور ابوظبی اسٹیڈیمز پر بھی ایشیا کپ ٹکٹوں کی فروخت شروع
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
کراچی:
ایشیا کپ میچز کے ٹکٹ دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم اور ابو ظبی کے زید کرکٹ اسٹیڈیم کے ٹکٹ آفس سے بھی ملنا شروع ہو گئے۔
ٹکٹ آفس دوپہر 2 بجے سے رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے، ابو ظبی میں ٹکٹ آفس زید کرکٹ اسٹیڈیم کے پی تھری پارکنگ ایریا میں قائم ہے جبکہ دبئی میں اسپورٹس سٹی کینال پارکنگ، دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ٹکٹ آفس بنایا گیا ہے۔
آن لائن خریداری کے خواہش مند شائقین کے لیے پلاٹینیم لسٹ پر تین مختلف پیکجز اب بھی دستیاب ہیں جن کی قیمت 475 درہم سے شروع ہوتی ہے، انفرادی میچز کے ٹکٹ اور 7 میچز پر مشتمل خصوصی پیکج بھی آن لائن دستیاب ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹکٹ ا فس
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔