یو ایس اوپن 2025 فائنل میں ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر میچ تاخیر کا شکار، شائقین کا اظہارِ برہمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر متنازع خبروں کی زینت بن گئے۔ اس بار وہ یو ایس اوپن 2025 کے مینز سنگلز فائنل کے دوران اسٹیڈیم پہنچے جہاں ان کی آمد کی وجہ سے میچ آدھے گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہو گیا۔
آرتھر ایش اسٹیڈیم میں ہونے والے اس فائنل میں اسپین کے کارلوس الکاراز اور اٹلی کے یانک سنر مدِمقابل تھے۔ شائقین ٹینس کا یہ بڑا مقابلہ دیکھنے کے لیے بے صبری سے منتظر تھے لیکن ٹرمپ کی آمد نے پورے انتظامات کو متاثر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ فٹبال کے دلدادہ نکلے، فیفا کلب ورلڈ کپ فائنل میں شرکت کے خواہشمند
اسٹیڈیم میں داخلے کے دوران خفیہ سروس اور وفاقی سیکیورٹی اہلکاروں کو سخت چیکنگ کرنا پڑی۔ بیگوں کی تلاشی اور میٹل ڈیٹیکٹرز سے گزرنے کی وجہ سے تماشائیوں کو اندر پہنچنے میں دشواری پیش آئی۔ میچ جو دوپہر 2 بجے شروع ہونا تھا، تقریباً 30 منٹ بعد شروع کیا گیا۔
خفیہ سروس کے ترجمان نے بھی اعتراف کیا کہ صدر کی سیکیورٹی کے باعث وقت ضائع ہوا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حفاظتی انتظامات کی وجہ سے شائقین کو انتظار کرنا پڑا۔ ہم سب کے صبر اور تعاون کے شکر گزار ہیں۔
میچ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں الکاراز اور سنر کی تعریف کی اور طنزیہ انداز میں کہا کہ مداح بہت اچھے تھے، مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا توقع کروں۔ عام طور پر آپ کہیں گے کہ یہ کچھ ’پروگریسو‘ قسم کا مجمع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیڈیم ٹینس ڈونلڈ ٹرمپ فٹ بال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیڈیم ٹینس ڈونلڈ ٹرمپ فٹ بال ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔