‘غزہ میں معاہدہ جلد ممکن، تمام یرغمالیوں کی رہائی کا امکان ہے،’ ٹرمپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں ایک معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے جس کے تحت حماس کے قبضے میں موجود تمام یرغمالیوں کو رہا کرایا جا سکے گا۔
نیو یارک سے مختصر دورے کے بعد واشنگٹن واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ وہ جہاز میں اس مسئلے پر بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے حل پر کام کر رہے ہیں جو بہت اچھا ثابت ہو سکتا ہے۔ آپ جلد اس کے بارے میں سنیں گے۔ ہمارا مقصد جنگ کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی واپسی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی مغویوں کو فوری رہا کیا جائے، ڈونلڈ ٹرمپ کی حماس کو آخری وارننگ
صدر ٹرمپ نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا تاہم کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تمام یرغمالی واپس آ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کچھ افراد جاں بحق بھی ہو چکے ہیں تو ان کی میتیں واپس لانے کی کوشش کی جائے گی۔
قبل ازیں اتوار کو ٹرمپ نے حماس کو ایک سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کے شرائط کو قبول کرے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اسرائیل نے میری شرائط مان لی ہیں، اب وقت ہے کہ حماس بھی قبول کرے۔ یہ میرا آخری وارننگ ہے، اس کے بعد کوئی اور موقع نہیں ملے گا۔
دوسری جانب حماس نے تصدیق کی ہے کہ اسے امریکی فریق کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے بعض تجاویز موصول ہوئی ہیں جن پر غور جاری ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن اس کے بدلے میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا واضح اعلان ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: حماس جنگ بندی مذاکرات پر تیار، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 18 افراد شہید
اسرائیلی میڈیا این 12 نیوز کے مطابق مجوزہ ڈیل میں حماس پہلے ہی دن باقی 48 یرغمالیوں کو رہا کرے گی جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا اور جنگ بندی کے دوران امن معاہدے پر مذاکرات ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امن معاہدہ جنگ بندی حماس ڈونلڈ ٹرمپ غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امن معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔