اسرائیلی مغویوں کو فوری رہا کیا جائے، ڈونلڈ ٹرمپ کی حماس کو آخری وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی عسکری گروپ فوری طور پر اسرائیلی مغویوں کو رہا کرے اور اس جنگ کا خاتمہ یقینی بنائے۔
اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ ہر کوئی مغویوں کی رہائی اور اس جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا حماس سے ایک بار پھر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ، مزاحمتی تنظیم کا انکار
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ اسرائیل نے میری تمام شرائط تسلیم کر لی ہیں، اب حماس کو بھی یہ شرائط قبول کرلینی چاہیں۔ یہ میری آخری وارننگ ہے، اب کوئی اور وارننگ نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 60 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
ادھر اسرائیل نے ایک بار پھر حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن فلسطین کی مزاحمتی تنظیم نے اس سے انکار کیا ہے۔
یروشلم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہاکہ اگر حماس غزہ میں یرغمالیوں کو رہا کر دے اور ہتھیار ڈال دے تو جنگ فوراً ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس مقصد کو سیاسی ذرائع سے حاصل کرنے میں خوش ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل حماس جنگ کے دوران غزہ میں 21 ہزار بچے معذوری کا شکار ہوگئے، اقوام متحدہ کا انکشاف
اس کے جواب میں حماس کے سینیئر رہنما باسم نعیم نے رائٹرز کو بتایا کہ تنظیم ہتھیار نہیں ڈالے گی تاہم اگر اسرائیل جنگ ختم کرے اور اپنی افواج واپس بلائے تو تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آخری وارننگ اسرائیل حماس جنگ امریکی صدر حماس ڈونلڈ ٹرمپ مغویوں کی رہائی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا خری وارننگ اسرائیل حماس جنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغویوں کی رہائی وی نیوز ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔