ٹرمپ کا یوٹرن، مودی کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد دوست قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
ٹرمپ کا یوٹرن، مودی کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد دوست قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم مودی کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد دوست قرار دے دیا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سوال پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ مودی ہمیشہ دوست رہیں گے، بھارت اور امریکا کا خاص رشتہ ہے،گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔
دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کیا۔
مودی نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے جذبات اور ہمارے تعلقات پر ان کے مثبت انداز کو دل سے سراہتا ہوں، بھارت اور امریکا کے درمیان انتہائی مثبت، دیرینہ عالمی اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے امریکا اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری ہے او رصدر ٹرمپ مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
بھارت کی جانب سے امریکا کے ساتھ تجارتی ڈیل فائنل نہ کرنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پرٹیرف 50 فیصد کردیا جب کہ ٹرمپ وقتاً فوقتاً پاک بھارت جنگ میں اپنے کردار کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس سے بھارت انکاری ہے۔
اس کے علاوہ امریکی اخبار کے مطابق بھارت امریکا تجارتی کشیدگی کے تناظر میں صدر ٹرمپ نے بھارت کا دورہ بھی منسوخ کیا۔
گزشتہ دنوں چینی شہر تیانجن میں شی جن پنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران پیوٹن اور مودی کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چینی صدر کی طرف بڑھتے دیکھا گیا، جس کے بعد تینوں رہنما شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تینوں ممالک کے رہنماؤں کی ایک تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ہم نے بھارت اور روس کو چین کے سب سے گہرے اور تاریک دائرے میں کھو دیا ہے‘۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخلائی صلاحیتوں، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر ٹیکنالوجی سے فضائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں: سربراہ پاک فضائیہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری، مزید 62 فلسطینی شہید واشنگٹن میں فوج کی تعیناتی کیخلاف ہزاروں افراد کا احتجاج، ٹرمپ سے فیصلہ واپس لینےکا مطالبہ تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلیوں کا مظاہرہ، صدر ٹرمپ سے غزہ جنگ ختم کرنے کا مطالبہ غزہ میں بدترین اسرائیلی مظالم جاری، ہرگھنٹے ایک بچہ شہید ہونے کا انکشاف نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈیلا منڈیلا کا غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شمولیت کا اعلان امریکی صدر کا محکمہ دفاع کا نام بدل کر ’محکمہ جنگ‘ رکھنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تنقید کا نشانہ مودی کو کے بعد
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ