قطر امریکا کا قریبی اتحادی ہے، اسرائیل کو محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قطر امریکا کا قریبی اتحادی ہے اور اس حوالے سے اسرائیل کو بہت محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران قطر کو بہترین اتحادی قرار دیا اور کہا کہ قطر کے ساتھ امریکا کے خاص تعلقات ہیں، جبکہ قطر کے امیر کو انہوں نے عظیم رہنما قرار دیا۔
ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ قطر پر اسرائیلی حملوں کے تناظر میں وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ جس پر انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو محتاط رہنا چاہیے، انہیں حماس کے خلاف اقدامات ضرور کرنے ہیں لیکن قطر امریکا کا اہم اتحادی ہے جسے اکثر لوگ نظر انداز کرتے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے روس پر پابندیوں کے حوالے سے کہا کہ امریکا روس کے خلاف مزید اقدامات کے لیے تیار ہے اور یورپ کو بھی اسی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک روس سے بڑی مقدار میں تیل خرید رہے ہیں جبکہ امریکا نہیں چاہتا کہ یورپ روسی تیل پر انحصار کرے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بھارت پر بھی روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر بھاری ٹیرف عائد کیا جا چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔