بھارت آبی جارحیت سے باز نہ آیا، ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، ہنگامی الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
لاہور:
بھارت آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے باز نہ آیا، دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا گیا جس پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
بھارت نے سفارتی ذرائع سے پاکستان میں مزید پانی چھوڑے جانے سے متعلق آگاہ کیا۔ پاکستان میں مزید سیلابی صورت حال کا خدشہ بدستور موجود ہے۔
وزارت آبی وسائل نے متعلقہ تمام اداروں کو ہنگامی الرٹ جاری کر دیا۔
بھارتی ہائی کمیشن نے دریائے ستلج میں دو مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کیا ہے، دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور کے مقام انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے بھارتی معلومات کے پیش نظر لاہور، ساہیوال، بہاولپور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان کے کمشنرز جبکہ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ کے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کر دی۔
محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات لوکل گورنمنٹ اور لائیا اسٹاک کو الرٹ جاری کر دیا گیا۔ شہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
دریائے ستلج، ہارکے اور فیروزپور میں ہائی فلڈ لیول — ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات اور ریسکیو پلانز پر فوری عملدرآمد کی ہدایت۔#PDMAPunjab #FloodAlert #Rescue #DisasterManagement #Punjab #StaySafe #FloodRelief pic.
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی۔
جہلم میں 96، جھنگ میں 77، نورپور تھل میں 70، خانیوال میں 55، لیہ میں 42، راولپنڈی میں 34، ساہیوال میں 32، منگلا میں 29، چکوال میں 26، ڈیرہ غازی خان میں 21، فیصل آباد میں 20 اور اوکاڑہ میں 17 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔
منڈی بہاالدین میں 16، بہاولپور میں 15، ملتان میں 15، سرگودھا میں 14، جوہرآباد میں 13، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 11، کوٹ ادو میں 10، سیالکوٹ میں 6، نارووال میں 5 اور قصور میں 4 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ہوئی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا 10واں اسپیل 9 ستمبر تک جاری رہے گا جس کے سبب واولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں جبکہ نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاالدین، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، جھنگ، سرگودھا، اور میانوالی میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ 9 ستمبر تک ڈیرہ غازی خان رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دریائے ستلج اونچے درجے ستلج میں
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان