بلوچستان میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال؛ کریک ڈاؤن میں کئی رہنما و مظاہرین گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان میں آج پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کے دوران پولیس کے کریک ڈاؤن میں کئی رہنما و مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آل پارٹیز کی کال پر بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کے باعث معمولات زندگی مفلوج ہو گئے، کئی شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور درجنوں رہنما و کارکن گرفتار کر لیے گئے۔
ہڑتال کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے پر ہونے والے خودکش حملے کے خلاف کی گئی۔ اس دوران کوئٹہ، دکی، خضدار، قلعہ عبداللہ، زیارت، مستونگ، جعفرآباد، حب اور لسبیلہ سمیت مختلف شہروں میں کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور شاہراہیں بند رہیں جب کہ مظاہرین نے کئی مقامات پر قومی شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک معطل کر دیا۔
پولیس نے کوئٹہ، دکی اور جعفرآباد سمیت مختلف اضلاع میں کارروائی کرتے ہوئے متعدد سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا جن میں پشتونخوا میپ کے سابق ایم این اے قہار ودان، بی این پی کے لقمان کاکڑ، نیشنل پارٹی کے رہنما عبدالرسول بلوچ، عبدالحکیم بلوچ، بی این پی کے مراد بلوچ اور پی ٹی آئی کے ایڈووکیٹ آدم رند شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔
دریں اثنا مظاہرین اور پولیس کے درمیان بروری روڈ پر فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او قادر قمبرانی زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ہنگامی پریس کانفرنس میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کا احتجاج پرامن ہے مگر حکومت اور پولیس تشدد کے ذریعے ہڑتال کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بی این پی، پشتونخوا میپ، اے این پی اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ان کے کئی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر گرفتار کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے اعلان کیا کہ بلوچستان کے عوام پرامن احتجاج کے حق میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بی این پی
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز