اسلام آباد ٹریفک پولیس کا ون وے خلاف ورزیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 249 مقدمات درج
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ون وے کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اب تک 249 مقدمات درج جبکہ 743 گاڑیاں اور موٹر سائیکل مختلف تھانوں میں بند کی جا چکی ہیں۔
پیر کے روز بھی کریک ڈاؤن کے دوران 66 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جبکہ 141 گاڑیاں اور موٹر سائیکل تھانوں میں بند کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: رانگ وے ڈرائیونگ کو جرم سمجھا جائے گا، اسلام آباد پولیس نے بڑے کریک ڈاؤن کا اعلان کردیا
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں کا کہنا ہے کہ ون وے کی خلاف ورزی نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے، اسی لیے اس کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا پر آگاہی مہم بھی جاری ہے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس جان لیوا ٹریفک وائلیشن سے اجتناب کریں۔ سی ٹی او نے مزید کہا کہ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے افسران ہر وقت سڑکوں پر موجود ہیں اور یہ کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس ڈرائیونگ کریک ڈاون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس ڈرائیونگ کریک ڈاون اسلام آباد
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔