کراچی میں پولیس کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کے سلیپر سیل کی موجودگی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
ڈیفنس خیابان بخاری میں گشت پر مامور گزری تھانے کی پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کے واقعے اور دیگر پولیس پر حملوں کے حوالے سے جاری تفیتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
اس حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزری تھانے کی پولیس موبائل کو فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے کے دوران جائے وقوعہ سے ملنے والے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے خول کا مینیوول فرانزک مکمل کرلیا گیا جس میں انکشاف ہوا ہے کہ پولیس موبائل پر حملے میں استعمال کیے جانے والا اسلحہ شہر کے دیگر علاقوں میں پولیس پر حملوں کی متعدد وارداتوں میں سے میچ کر گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق کے بعد شبہ ہے کہ پولیس پر حملوں میں ایک ہی گروپ کے ملوث ہوسکتا ہے جو شہر میں ہی مختلف وارداتوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس پر حملوں کے دوران جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خولز کی مدد سے ان وارداتوں کا ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے جس میں ایک ہی طرح کا اسلحہ استعمال کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پولیس پر حملوں کے یہ واقعات گزشتہ ڈھائی سے تین ماہ کے دوران پیش آئے اور قوی شبہ ہے کہ دہشت گردوں کے سلیپر سیل متحرک ہوئے ہیں جن کا سراغ لگانے کے لیے پولیس ، کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان واقعات کی باریک بینی سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گولیوں کے میچ کرنے والے خولز شہر میں پولیس پر حملوں کے دوران ساؤتھ زون کے علاقے مائی کلاچی روڈ پر ٹریفک پولیس چوکی میں اہلکار زین، ویسٹ زون کے علاقے منگھوپیر میں پولیس اہلکار عمران ، ایسٹ زون کے علاقے بن قاسم ملیر میں پولیس اہلکار میتھرو جبکہ چند روز قبل شاہ لطیف ٹاؤن میں ہیڈ کانسٹیبل عبدالکریم کی ٹارگٹ کلنگ سے میچ کرگئے ہیں۔
ایسٹ زون کے ڈسٹرکٹ کورنگی میں قیوم آباد میں ساجد زمان پولیس چوکی پر اندھا دھند فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی جبکہ ایک شہری جاں بحق بھی ہوا تھا، اس کے علاوہ ڈیفنس فیز ون میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس اہلکار ثاقب کو فائرنگ کا نشانہ بنا کر زخمی کیا تھا جبکہ 2 روز قبل اتوار کی شب ساؤتھ زون کے علاقے ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں گزری تھانے کی پولیس موبائل کو اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
ڈسٹرکٹ ساؤتھ پولیس کی جانب سے علاقے میں سیکیورٹی کے فل پروف اقدامات کے حوالے سے اعلامیہ جاری کیا گیا تھا تاہم خوش قسمتی سے موبائل میں سوار ڈرائیور اور اہلکار محفوظ رہے جبکہ اس حملے کے چند گھنٹوں کے بعد ساحل تھانے کی حدود میں سی ویو دو دریا کے قریب موبائل گشت پر مامور کار میں سوار ایک پولیس اہلکار کو مشکوک کار سوار ملزمان اغوا کر کے فرار ہوگئے تھے۔
ملزمان کی جانب سے پولیس موبائل کار پر فائرنگ بھی کی گئی تھی جس میں 2 خول نائن ایم ایم اور 4 خول 30 بور پستول کے ملے تھے تاہم مغوی اہلکار کو ملزمان نے لوٹ مار کے بعد سپرہائی وے پر اتار دیا جو ساحل تھانے پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
اتوار کی شب پولیس پر کیے گئے ان 2 پے در پے حملوں اور اہلکار کے اغوا نے ساؤتھ زون کے افسران کی کارکردگی اور سیکیورٹی اقدامات پر سوال بھی اٹھا دیئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس پر حملوں کے پولیس موبائل پولیس اہلکار زون کے علاقے میں پولیس کہ پولیس تھانے کی کے دوران ساو تھ
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔