بلوچستان: فورسز کے آپریشن میں 5 بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد ہلاک، حملوں میں پولیس اور لیویز کے 2 اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع خضدار میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں فتنۃ الہندوستان کے 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ ضلع شیرانی کے پولیس اور لیویز کے تھانوں پر دہشت گردوں کے حملوں میں 2 اہلکار شہید ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز کی خضدار میں 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب بھارتی پراکسی دہشت گرد تنظیم ’فتنہ الہندستان‘ کے کارندوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا، اس دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 5 بھارتی سرپرست دہشت گرد واصل جہنم کیے گئے، دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا، مارے گئے دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے ملک سے بھارتی سرپرست دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا،دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
علاوہ ازیں، بلوچستان کے ضلع شیرانی میں پولیس اور لیویز کے تھانوں پر دہشت گردوں کے حملوں میں پولیس اور لیویز کا ایک، ایک اہلکار شہید ہوگیا۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے میں تھانوں کے کمیونی کیشن سسٹم کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
حملوں میں 6 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، واقعے کے بعد سول ہسپتال ژوب میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: آئی ایس پی آر کے مطابق پولیس اور لیویز دہشت گردوں کے حملوں میں
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک