عدالت کو کہا ہے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا، انصاف کیا جائے، گوہر خان
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگر ایک بندہ منتخب ہو کر اسمبلی جاتا ہے تو اس کے خلاف صرف آرٹیکل 225 کے مطابق کارروائی ہوگی، بعد از نا اہلی کیلئے الیکشن کمیشن کو آرٹیکل 62 اور 63 کو فالو کرنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ بینچ کے سامنے ہمارے پارلیمنٹیرینز کے کیسز زیر التوا تھے، عدالت کو کہا ہے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے، ہم عدالت سے التجا کر رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف کرے۔ پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ تقریباً 5 گھنٹے کی سماعت ہوئی ہے، باقی سماعت بدھ 11 بجے ہوگی۔ بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ بانی نے کہا تھا 9 مئی کی غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہیے، اب آئین میں صرف 14 قسم کی نا اہلی ہے، آئین کے مطابق کوئی نا اہل ہوا ہے تو اس کی سیٹ خالی ہوگی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر ایک بندہ منتخب ہو کر اسمبلی جاتا ہے تو اس کے خلاف صرف آرٹیکل 225 کے مطابق کارروائی ہوگی، بعد از نا اہلی کیلئے الیکشن کمیشن کو آرٹیکل 62 اور 63 کو فالو کرنا ہوگا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے ہائیکورٹ سے درخواست کی ہے کہ یہ نا اہلی غیر قانونی ہے، ہمارے پاس دونوں سیٹیں آئینی ہیں، ہم نے عدالت سے کہا ہے کہ ہم پہلے ہی سے ہاٹ واٹر میں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر کہا ہے کہ گوہر خان نا اہلی نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔