اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کاکہناہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جمہوری عمل کا بائیکاٹ کرکے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سیاست نہیں بلکہ ملک میں فتنہ، فساد اور انتشار چاہتے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا نے کہا کہ پی ٹی آئی کا حالیہ اقدام بائیکاٹ نہیں بلکہ راہِ فرار ہے ، پی ٹی آئی کے پاس اپنی پالیسی اور ممبران پر اعتماد نہ ہونے کے باعث کوئی اور راستہ نہیں بچا۔

 انہوں نے کہا کہ  پی ٹی آئی کا اپنے ہی ممبران پر اعتماد نہیں، یہ ان کا غیر جمہوری اور غیر سیاسی رویہ ہے،  اس جماعت نے ایک پالیسی کے طور پر لعن طعن اور گالی گلوچ کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔

انہوں  نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے 10 سے 12 ارکان نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں ووٹ ڈالنے کی پیشکش کی،  انہوں نے انکار کر دیا،میں نے انہیں کہا کہ مجھے نہیں اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالیں۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے دورِ اقتدار میں سیاسی ڈائیلاگ کو یکسر مسترد کیا اور “اوئے توئے” جیسا کلچر بطور پالیسی اپنایا، وزیراعظم نے تین مرتبہ اپوزیشن کے پاس جا کر بات چیت کی پیشکش کی لیکن پی ٹی آئی نے ہمیشہ ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا،سیاست گفتگو اور مذاکرات کا نام ہے، جمہوریت ڈیڈ لاک سے نہیں بڑھتی۔

رانا ثنا نے مزید کہا کہ عمران خان اور ان کے چند ساتھیوں کا مقصد سیاست کرنا نہیں بلکہ ملک میں انتشار پھیلانا ہے،انہوں نے اپنے کارکنان کو بھی بطور پالیسی یہ حکم دیا کہ مخالف کو دیکھتے ہی چور کہیں۔

انہوں نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کسی بھی طور قابل قبول نہیں۔

خیال رہےکہ جاپان کے دورے کے دوران پاکستان کی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جہاں ایک تقریب میں موجود افراد نے ان پر “چور، چور” کے نعرے لگائے۔

 سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مریم نواز کے خطاب کے دوران شرکا نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال قابو میں کرنے کی کوشش کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: انہوں نے اور ان کہا کہ

پڑھیں:

اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ملاقات کرا دی گئی.

جیل ذرائع کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی جو 50 منٹ تک جاری رہی۔

ملاقات میں دونوں نے ایک دوسرے کی صحت سے متعلق بات چیت کی۔

دریں اثنا عمران خان کی بہنوں سمیت کسی کو ملاقات کی اجازت نہ ملی، وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی، بانی کی بہنوں نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا بھی دیا، راولپنڈی فیکٹری ناکے پر کے پی ممبران اسمبلی اور کارکن موجود رہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا