Islam Times:
2026-07-24@07:21:45 GMT

ترکیہ برطانیہ سے 20 یورو فائٹر طیارے خریدے گا، معاہدے طے

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

ترکیہ برطانیہ سے 20 یورو فائٹر طیارے خریدے گا، معاہدے طے

برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس آرڈر میں 20 یورو فائٹر طیارے شامل ہوں گے۔ یورو فائٹر ٹائیفون جیٹ طیاروں کو اس وقت پانچ یورپی ممالک، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، اسپین اور آسٹریا اور چار خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، عمان، کویت اور قطر استعمال کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ترکی اور برطانیہ کے درمیان یورو فائٹر طیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پا گیا۔ ترکیہ برطانیہ سے 20 یورو فائٹر طیارے خریدے گا۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے یورو فائٹر ٹائفون طیاروں کی خریدارے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ ایردوان نے پیر کے روز انقرہ میں صدارتی کمپلیکس میں اسٹارمر کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد کہا کہ ہم اسے دو قریبی اتحادیوں کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کی ایک نئی علامت سمجھتے ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ برطانیہ کے ساتھ یورو فائٹر معاہدے سے مشترکہ دفاعی منصوبوں کے دروازے کھل جائیں گے۔ ترک صدر نے ترکیہ اور برطانیہ کے درمیان تجارت کو 40 ارب ڈالر تک بڑھانے کا اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کا وعدہ کیا۔ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ اس معاہدے کی مالیت تقریبا 11 بلین ڈالر ہے۔ یہ واقعی ایک اہم معاہدہ ہے کیونکہ یہ 10.

7 بلین ڈالر مالیت کے آرڈر ہیں۔ اسٹارمر نے کہا کہ ترکیہ اور برطانیہ کے درمیان یورو فائٹر جیٹ معاہدہ "نیٹو کی سلامتی کے لئے ایک جیت ہے۔"  ادھر برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس آرڈر میں 20 یورو فائٹر طیارے شامل ہوں گے۔ یورو فائٹر ٹائیفون جیٹ طیاروں کو اس وقت پانچ یورپی ممالک، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، اسپین اور آسٹریا اور چار خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، عمان، کویت اور قطر استعمال کرتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یورو فائٹر طیارے اور برطانیہ کے کے درمیان کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل