ترکیہ برطانیہ سے 20 یورو فائٹر طیارے خریدے گا، معاہدے طے
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس آرڈر میں 20 یورو فائٹر طیارے شامل ہوں گے۔ یورو فائٹر ٹائیفون جیٹ طیاروں کو اس وقت پانچ یورپی ممالک، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، اسپین اور آسٹریا اور چار خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، عمان، کویت اور قطر استعمال کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ترکی اور برطانیہ کے درمیان یورو فائٹر طیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پا گیا۔ ترکیہ برطانیہ سے 20 یورو فائٹر طیارے خریدے گا۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے یورو فائٹر ٹائفون طیاروں کی خریدارے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ ایردوان نے پیر کے روز انقرہ میں صدارتی کمپلیکس میں اسٹارمر کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد کہا کہ ہم اسے دو قریبی اتحادیوں کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کی ایک نئی علامت سمجھتے ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ برطانیہ کے ساتھ یورو فائٹر معاہدے سے مشترکہ دفاعی منصوبوں کے دروازے کھل جائیں گے۔ ترک صدر نے ترکیہ اور برطانیہ کے درمیان تجارت کو 40 ارب ڈالر تک بڑھانے کا اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کا وعدہ کیا۔ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ اس معاہدے کی مالیت تقریبا 11 بلین ڈالر ہے۔ یہ واقعی ایک اہم معاہدہ ہے کیونکہ یہ 10.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یورو فائٹر طیارے اور برطانیہ کے کے درمیان کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔