data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ترکیہ نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے برطانیہ کے ساتھ 20 یورو فائٹر ٹائیفون جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

انقرہ میں ہونے والی خصوصی تقریب میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے شرکت کی۔ اس موقع پر صدر اردوان نے کہا کہ یہ معاہدہ ترکیہ اور برطانیہ کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے ایک نئے دور کی علامت ہے، جو نہ صرف دفاعی شعبے بلکہ ٹیکنالوجی اور صنعت میں بھی تعلقات کو مضبوط کرے گا۔

رپورٹس کے مطابق معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے اور پہلے بیڑے کے یورو فائٹر طیارے 2030 تک ترکیہ کے فضائی بیڑے میں شامل کیے جائیں گے۔ ترکیہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ حکومت قطر اور عمان سے بھی 12، 12 یورو فائٹر طیارے خریدنے پر غور کر رہی ہے تاکہ خطے میں اپنی دفاعی برتری، خصوصاً اسرائیل جیسے حریف ممالک کے مقابلے میں، برقرار رکھ سکے۔

ترک حکام کے مطابق طویل المدتی منصوبے کے تحت ترکیہ مجموعی طور پر 120 جدید جنگی طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال جولائی میں دونوں ممالک کے درمیان 40 یورو فائٹر طیاروں کی خریداری کے ابتدائی معاہدے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: طیارے خریدنے یورو فائٹر

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان