وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت سنگین آئینی بحران سے گزر رہا ہے، جسے پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو یرغمال بنا لیا گیا ہے، جو عدالتی خودمختاری پر براہ راست حملہ ہے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ججز کے احکامات ہوا میں اڑائے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ ایک چھوٹا حوالدار بھی عدلیہ کے احکامات پر عمل نہیں کر رہا۔

ان کے مطابق، ہم آئین و قانون پر عملدرآمد کے لیے سپریم کورٹ آئے ہیں۔ اگر آئین پر عمل ہوا تو بانی پی ٹی آئی کے خلاف قائم مقدمات کا فیصلہ شفاف انداز میں ہوگا اور ناحق قید لوگ رہا ہوں گے۔

سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات جلد سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں، خاص طور پر القادر ٹرسٹ کیس جو طویل عرصے سے زیر التوا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ پورے صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور میرے آفس میں سب آئیں گے تو کور کمانڈر بھی آئیں گے، اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

دوحا مذاکرات کے حوالے سے سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ انہوں نے اسمبلی کے فلور پر کہا تھا کہ مذاکرات خوش آئند ہیں، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جو براہ راست ان مذاکرات سے متاثر ہوتی ہے۔ جو لوگ مذاکرات کامیاب بنا سکتے ہیں، انہیں کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی ہوگی یا نہیں، تاکہ ہم اس کے مطابق اپنا مؤقف طے کرسکیں۔

انہوں نے وفاقی حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں انصاف ہوا تو بہت سے ناحق قید لوگ جلد آزاد ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے کہا کہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن