پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اختلافات ابھر کر سامنے آگئے ہیں کیونکہ پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے حالیہ جارحانہ بیانات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے لب و لہجے کی وجہ سے پی ٹی آئی کی اہم شخصیات پریشان ہوگئی ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ ایسا جارحانہ رویہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی حکومت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔جن لوگوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اُن میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور، سینیٹر شبلی فراز، شیخ وقاص اکرم اور دیگر شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خصوصی طور پر علی امین گنڈا پور نے خبردار کیا ہے کہ وزیراعلیٰ اور پارٹی کے صوبائی صدر کے اشتعال انگیزی پر مبنی بیانات پارٹی کی واحد حکومت کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ کے پی میں سیٹ اپ کو نقصان سے دوچار کرنے کی بجائے ایسی کوششیں کرنی چاہئیں جن میں توجہ صوبائی حکومت کو بچانے اور اسے برقرار رکھنے پر مرکوز رکھنا چاہیے۔پارٹی کے اندرونی ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ بیریسٹر گوہر علی خان، شبلی فراز اور شیخ وقاص اکرم نے بھی مقتدر حلقوں کیخلاف اختیار کردہ محاذ آرائی کے موقف کے حوالے سے انہی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ہدف بنانے کیلئے کھل کر اشتعال انگیز بیانات دینے سے عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر 9 مئی جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے جس سے پارٹی قیادت یقیناً بچنا چاہتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پارٹی کے کیا ہے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی