قزاقستان نے جبری شادیوں اور دلہنوں کے اغوا پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آستانہ (نٹرنیشنل ڈیسک) قزاقستان میں جبری شادیوں اور دلہنوں کے اغوا پر پابندی کا قانون نافذ ہوگیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب کسی کو زبردستی شادی پر مجبور کرنے پر 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ یہ قانون جبری شادیاں روکنے اور کمزور طبقوں، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے نافذ کیا گیا۔اس کے علاوہ دلہنوں کے اغوا پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق اس سے پہلے اگر کوئی اغوا کار متاثرہ خاتون کو اپنی مرضی سے چھوڑ دیتا تو اس کا قانونی کارروائی سے بچنے کا امکان ہوتا تھا تاہم اب یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قزاقستان میں جبری شادیوں کے کیسوں کے قابلِ اعتماد اعداد و شمار موجود نہیں کیونکہ اس سے متعلق کرمنل کوڈ میں کوئی الگ شق موجود نہیں تھی۔ تاہم ایک رکن پارلیمان نے رواں سال کہا تھا کہ 3 سالوں میں پولیس کو اس نوعیت کی 214 شکایات موصول ہوئی ہیں۔یاد رہے کہ قزاقستان میں خواتین کے حقوق کا مسئلہ 2023 ء میں اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا جب ایک سابق وزیر نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
مقامی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ اور گرد و نواح میں دو طرفہ سڑک کی بحالی اور صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ سڑک کی مکمل بحالی اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر روڈ کو 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بابوسر ٹاپ روڈ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ اور گرد و نواح میں دو طرفہ سڑک کی بحالی اور صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ سڑک کی مکمل بحالی اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر روڈ کو 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ مزید معلومات اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہی کے لیے ڈپٹی کمشنر دیامر آفس 05812920055 دیامر پولیس کنٹرول روم 05812930037 پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کریں۔