data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ  نے نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا) کے ڈائریکٹر ایس ایم او صبیح حیدر کی تعیناتی   غیرقانونی قرار  دے دی،عدالت نے کہا کہ ڈائریکٹر اسٹریٹیجی مینجمنٹ آفس کے عہدے کی تخلیق بھی غیر قانونی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ  کے جسٹس بابر ستار نے نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا)کے سینئر اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد ساجد حسین  کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا جس میں ادارے کے  ڈائریکٹر ایس ایم او(اسٹریٹیجی مینجمنٹ آفس )صبیح حیدر کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ  ڈائریکٹر اسٹریٹیجی مینجمنٹ آفس کے عہدے کی تخلیق اور اس پر کی جانے والی تعیناتی غیر قانونی ہے۔ نیکا بورڈ جائزہ لے کہ وہ ترمیمی ریگولیشنز نیکا بورڈ کی منظوری کے بغیر کیسے گزٹ میں شائع ہوئیں؟

سرکاری گزٹ میں ان ترامیم کی اشاعت کی ذمے داری طے کی جائے جو کبھی نیکا بورڈ سے منظور ہی نہیں کی گئیں۔

نیکا بورڈ غیر منظور شدہ ترامیم کے اشاعت کی ذمہ داری طے کرے۔ عدالت نے فیصلے کی کاپی چیئرمین نیکا بورڈ کو بھجوانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام آباد نیکا بورڈ

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے