جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن نے ماہانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن (COIED) نے اپنی ماہانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی ۔رپورٹ کے مطابق اگست 2025 کے مہینے کے دوران لاپتا افراد کے 103 کیسز کو نمٹا دیا ہے جبکہ 11 نئے کیسز بھی رجسٹر کئے گئے ہیں۔
جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق کمیشن نے مارچ 2011 سے اگست 2025 کے درمیان موصول ہونے والے کل 10,618 کیسوں میں سے 8,873 کیسز کو بھی نمٹا دیا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: لاپتا افراد مقدمات کی سماعت کرنے والا کا اسپیشل بینچ کیوں ٹوٹا؟
یہ کل کیسز کا 83.
مزید برآں کمیشن کی کے پی رجسٹری کے ستمبر 2025 کے تیسرے ہفتے میں فعال ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: انکوائری کمیشن برائے جبری گمشدگیوں کی تشکیل نو، جسٹس (ر) ارشد حسین کو سربراہ مقرر
کمیشن نے ویڈیو لنک کے ذریعے لاپتا افراد کےمقدمات کی سماعت کا آغاز بھی کامیابی سے کیا ہے جس سے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ساتھ اسلام آباد اور واپسی کے سفر میں اہلخانہ کے وقت اور اخراجات کی بچت ہو گی۔
کمیشن کے چیئرمین جسٹس سید ارشد حسین شاہ بھی نہ صرف مقدمات کو تیز کرنے بلکہ متاثرہ خاندانوں کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کے لیے مختلف تھانوں کا اکثر دورہ کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انکوائری کمیشن جبری گمشدگیاں جسٹس سید ارشد حسین شاہ لاپتا افراد
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکوائری کمیشن جبری گمشدگیاں جسٹس سید ارشد حسین شاہ لاپتا افراد انکوائری کمیشن جبری گمشدگیوں لاپتا افراد
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔