بھارت میں طوفان مونتھا کے پیش نظر اسکول بند، شہریوں کا انخلا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
بھارت میں مشرقی ساحلی علاقوں کی طرف بڑھنے والے طوفان مونتھا کے پیش نظر حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ اسکول اور کالجز دو روز کے لیے بند کر دیے گئے جبکہ خطرے کے علاقوں سے شہریوں کا انخلا بھی کیا جا رہا ہے۔
خبر ایجنسی اے پی کے مطابق، بھارت کے محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ خلیج بنگال میں بننے والا مونتھا سمندری طوفان کی شکل اختیار کر چکا ہے اور امکان ہے کہ یہ آندھرا پردیش کے ساحلی شہر کاکیناڈا سے ٹکرائے گا۔ طوفان کی شدت بڑھنے کا خدشہ ہے اور ساحل سے ٹکرانے پر 90 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے آندھرا پردیش کے 19 اضلاع میں شدید بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ قریبی ریاستوں تامل ناڈو، تیلنگانا، کیرالا اور کرناٹکا میں بھی بارش کے امکانات ہیں۔
ڈیزاسٹر منیجمنٹ ٹیموں نے خطرے کے حامل علاقوں سے 38 ہزار افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا ہے، جبکہ ریاستی حکومت کے مطابق تقریباً 40 لاکھ لوگ خطرناک علاقوں میں مقیم ہیں۔ مزید برآں، ایک ہزار 238 دیہاتوں سے شہریوں کا انخلا کیا گیا اور ایک ہزار 906 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 364 اسکول شیڈ یا حفاظتی مراکز کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔
ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے خبردار کیا گیا ہے اور ریل و پرواز کی خدمات بھی جزوی طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔ اوڈیسا میں بھی 32 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
یہ اقدامات طوفان کے ممکنہ اثرات سے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔