بھارت میں مشرقی ساحلی علاقوں کی طرف بڑھنے والے طوفان مونتھا کے پیش نظر حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ اسکول اور کالجز دو روز کے لیے بند کر دیے گئے جبکہ خطرے کے علاقوں سے شہریوں کا انخلا بھی کیا جا رہا ہے۔
خبر ایجنسی اے پی کے مطابق، بھارت کے محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ خلیج بنگال میں بننے والا مونتھا سمندری طوفان کی شکل اختیار کر چکا ہے اور امکان ہے کہ یہ آندھرا پردیش کے ساحلی شہر کاکیناڈا سے ٹکرائے گا۔ طوفان کی شدت بڑھنے کا خدشہ ہے اور ساحل سے ٹکرانے پر 90 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے آندھرا پردیش کے 19 اضلاع میں شدید بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ قریبی ریاستوں تامل ناڈو، تیلنگانا، کیرالا اور کرناٹکا میں بھی بارش کے امکانات ہیں۔
ڈیزاسٹر منیجمنٹ ٹیموں نے خطرے کے حامل علاقوں سے 38 ہزار افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا ہے، جبکہ ریاستی حکومت کے مطابق تقریباً 40 لاکھ لوگ خطرناک علاقوں میں مقیم ہیں۔ مزید برآں، ایک ہزار 238 دیہاتوں سے شہریوں کا انخلا کیا گیا اور ایک ہزار 906 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 364 اسکول شیڈ یا حفاظتی مراکز کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔
ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے خبردار کیا گیا ہے اور ریل و پرواز کی خدمات بھی جزوی طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔ اوڈیسا میں بھی 32 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
یہ اقدامات طوفان کے ممکنہ اثرات سے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار