پنجاب: اعجاز چوہدری کی سینیٹ نشست پر ضمنی الیکشن عدالتی فیصلے سے مشروط
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
پنجاب: اعجاز چوہدری کی سینیٹ نشست پر ضمنی الیکشن عدالتی فیصلے سے مشروط WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں سینیٹ کی نشست پر ضمنی الیکشن درخواست کے حتمی فیصلے سے مشروط کردیا۔
درخواست پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری نے دائر کی تھی جس میں سینیٹ کے انتخاب روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اعجاز چوہدری کو 28 جولائی کو ڈی نوٹی فائی کیا تاہم چیئرمین سینیٹ کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کرنے کےلیے درخواست ارسال نہیں کی گئی۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ شبلی فراز اور عمر ایوب کی درخواست پر الیکشن روکنے کا حکم دے چکی ہے، الیکشن کمیشن نے سیلابی صورتحال کے باعث ملک بھر میں ضمنی انتخابات روک دیے ہیں مگر سیلابی صورت حال میں سینیٹ کے انتخابات کی پولنگ نہیں روکی جا رہی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے پی ٹی آئی رہنما اعجازچوہدری کی درخواست پر 2 صفحات کا فیصلہ جاری کیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست میں اہم نکات اٹھائے گئے، الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین 15 دنوں میں تحریری جواب داخل کرائیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے سینیٹ کی نشست پر منتخب اعجاز چوہدری کو الیکشن کمیشن نے 9 مئی مقدمے میں ملنے والی سزا کے بعد سینیٹ کی نشست سے نااہل کردیا تھا۔
اعجاز چوہدری کی اس نشست پر ہونے والے الیکشن میں (ن) لیگ کے رانا ثنااللہ امیدوار ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی آبی جارحیت، ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، سیکڑوں دیہات، بستیاں ڈوب گئیں کراچی: آج مون سون کا بڑا سپیل برسنے کو تیار، 100 ملی میٹر سے زائد بارش متوقع فلسطینیوں کی امداد کےلیے جانے والے فلوٹیلا میں شامل کشتی پر ڈرون حملہ طیب بلوچ ، فیصل حکیم اور غلام رسول قمر و دیگر صحافیوں پر تشدد کا مقدمہ علمیہ خان ، نعیم پنجوتہ سمیت چالیس نامعلوم... توشہ خانہ کے تحائف کی بولیوں میں نجی تخمینہ کاروں کی عدم دلچسپی برقرار، مسلسل چوتھی بار کوئی بولی موصول نہیں ہوئی پاکستان پر قرضے اور واجبات 94ہزار 197ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی آئی کارکنان کے تشدد کے شکار صحافی نے تھانے میں علیمہ خان کیخلاف درخواست جمع کرادی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اعجاز چوہدری چوہدری کی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔