لاہور ہائیکورت نے پنجاب میں سینیٹ نشست پر الیکشن کو پٹیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
لاہور:
ہائیکورٹ نے پنجاب میں سینیٹ کی خالی نشست پر ہونے والے انتخاب کو پٹیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط قرار دے دیا۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے اعجاز چوہدری کی درخواست پر 2 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ 15 روز میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین اپنے تحریری جوابات جمع کروائیں۔
درخواست گزار اعجاز چوہدری نے سینیٹ کے انتخاب کو رکوانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان کے وکلا بیرسٹر تیمور ملک اور رانا مدثر عمر نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن نے انہیں 28 جولائی کو ڈی نوٹیفائی کردیا تھا لیکن چیئرمین سینیٹ کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کرنے کی درخواست ارسال نہیں کی گئی۔
مزید کہا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ شبلی فراز اور عمر ایوب کی درخواست پر پہلے ہی سینیٹ انتخابات روکنے کا حکم دے چکی ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک میں سیلابی صورتحال کے باعث الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات روک دیے ہیں لیکن سینیٹ کے انتخاب کی پولنگ بدستور جاری رکھی گئی ہے جو غیر منصفانہ ہے۔
اعجاز چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی نشست پر انتخابی عمل کو روکا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔