بابر اعظم نے طویل خاموشی توڑ دی، شائقین کے لیے پیغام جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم نے جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا ہے۔ بابر اعظم نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں لکھا کہ شکر گزار ہوں کہ میں دوبارہ وہی کر رہا ہوں جو مجھے پسند ہے، اُن سب کا شکریہ جنہوں نے خاموشی کے وقت میں مجھ پر یقین رکھا۔گزشتہ روز کھیلے گئے فیصلہ کن میچ میں بابر اعظم نے 47 گیندوں پر 68 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی اور ٹیم کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا، شاندار کارکردگی پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ یہ مئی 2024 کے بعد پہلا موقع تھا جب بابر اعظم نے بین الاقوامی میچ میں نصف سنچری اسکور کی، ان کی فارم میں واپسی پر مداحوں نے خوشی اور فخر کا اظہار کیا، جبکہ سوشل میڈیا پر ان کے حق میں تعریفی تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔