جبری گمشدگیاں: انکوائری کمیشن نے اگست میں 103 کیسز نمٹا دیے
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
جبری گمشدگیوں کے معاملے پر انکوائری کمیشن نے گزشتہ ماہ (اگست) میں 103 کیسز نمٹا دیے۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2011 سے اگست 2025 کے درمیان کل 10 ہزار 618 مقدمات کمیشن کے پاس آئے جن میں سے 8 ہزار 873 نمٹائے جا چکے ہیں۔ یوں اب تک مجموعی کیسز کا 83.56 فیصد فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
کمیشن نے نمٹائے گئے کیسز میں 6 ہزار 809 لاپتا افراد کا سراغ لگایا، تاہم اب بھی ایک ہزار 745 مقدمات اسلام آباد، کراچی، لاہور اور کوئٹہ کی رجسٹریوں میں زیرِ تفتیش ہیں۔ کمیشن کی خیبر پختونخوا رجسٹری بھی رواں ماہ کے تیسرے ہفتے فعال ہونے کا امکان ہے۔
کمیشن نے بذریعہ ویڈیو لنک مقدمات کی سماعت کا کامیاب آغاز بھی کر دیا ہے جس سے گمشدہ افراد کے خاندانوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو سفر کے اخراجات اور وقت کی بچت ہوگی۔
کمیشن کے چیئرمین جسٹس سید ارشد حسین شاہ متاثرہ خاندانوں کو دہلیز پر انصاف کی فراہمی اور مقدمات کو تیز رفتار نمٹانے کے لیے مختلف شہروں کے دورے بھی کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔