محسن نقوی کا اسلام آباد کے دو میگا پراجیکٹس دسمبر کے اوائل میں کھولنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے دو میگا پراجیکٹس دسمبر کے اوائل میں کھولنے کا اعلان کر دیا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے دو بڑے ترقیاتی منصوبوں، ٹی چوک فلائی اوور اور شاہین چوک انڈر پاس پر جاری تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا، اس موقع پر ممبر انجینئرنگ سی ڈی اے نے وزیر داخلہ کو دونوں پراجیکٹس پر ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔محسن نقوی نے اپنے دورے کے دوران دونوں منصوبوں پر تعمیراتی سرگرمیوں، معیار اور پیش رفت کا تفصیلی معائنہ کیا اور ہدایت دی کہ تعمیراتی کاموں میں معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، رفتار اور معیار دونوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کا 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے دسمبر کے اوائل میں ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا، اس منصوبے کی تکمیل سے جی ٹی روڈ سے اسلام آباد آنے والے مسافروں کو سگنل فری سفر کی سہولت حاصل ہوگی جس سے ٹریفک کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئے گی۔محسن نقوی نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ شہریوں کے سفری مسائل کے حل میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، شہریوں کو ٹریفک مسائل سے نجات دلانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیر داخلہ نے شاہین چوک انڈر پاس کے حوالے سے بھی واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے کو اگلے 30 دنوں میں مکمل کیا جائے اور اس کے لیے بیک وقت 24/7 کام جاری رکھا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ ٹریفک کے دباؤ اور سکول اوقات میں عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے منصوبے کی جلد تکمیل ضروری ہے، شاہین چوک انڈر پاس اسلام آباد کا ایک جدید (ماڈرن) ترقیاتی منصوبہ ہوگا جو دارالحکومت کی ٹریفک اور سفری سہولیات میں نیا معیار قائم کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے وزیر داخلہ اسلام آباد
پڑھیں:
ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک سے صرف ویزہ اوور سٹے یعنی ویزہ کی مقررہ مدت سے زائد قیام کی بنیاد پر ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی شہریوں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے حکومتی عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری کسی دوسرے ملک میں محض اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے یعنی اوور سٹے کی وجہ سے پاکستان واپس ڈی پورٹ کیا جاتا ہے، تو اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ محض ویزہ اوور سٹے کی بنیاد پر بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونا کسی بھی شہری کے بیرونِ ملک سفر کرنے اور وہاں روزگار حاصل کرنے کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز ہرگز نہیں بن سکتا۔(جاری ہے)
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت یا متعلقہ ادارے کسی بھی شہری کے سفر پر اس وقت تک پابندی عائد نہیں کر سکتے جب تک کہ اس کے خلاف کسی باقاعدہ سنگین جرم کا ثبوت نہ ہو، وہ ملک کے لیے کوئی سکیورٹی خدشہ نہ بن چکا ہو، یا اس کے خلاف کسی اور مجرمانہ سرگرمی کا ناقابلِ تردید ثبوت موجود نہ ہو۔
اہم خبر ، دوسرے ملک میں صرف اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے والے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر قانونی قرار دے دیا " جب تک کوئی جرم ثابت نا ہو تب تک سفری پابندی عائد کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے " اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ pic.twitter.com/zbQ5TmsKcV
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) June 3, 2026 امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس فیصلے سے ان ہزاروں پاکستانیوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جو نادانستگی میں یا مجبوری کے تحت بیرونِ ملک ویزے کی مدت ختم ہونے پر ڈی پورٹ کر دیئے جاتے تھے اور پاکستان پہنچنے پر ایف آئی اے یا پاسپورٹ حکام ان کا نام کنٹرول لسٹ میں ڈال کر ان کا پاسپورٹ بلاک کر دیتے تھے، جس سے ان کے دوبارہ بیرونِ ملک جانے کے تمام راستے بند ہو جاتے تھے، عدالت نے اب اس عمل کو قانون کے منافی قرار دے دیا ہے۔