بند کمروں کے فیصلے مسلط نہیں کیے تو وفاق کیساتھ تعاون کرینگے: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی—فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ مختصر کابینہ جلد تشکیل دی جائےگی اس پر مشاورت ہو گئی ہے، اگر بند کمروں کے فیصلے مسلط نہیں کیے گئے تو وفاق کے ساتھ تعاون کریں گے۔
راولپنڈی میں ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی معاملات دیکھ رہا ہوں، کچھ بریفنگ لی ہیں، کچھ رہتی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق آج بھی ہم بانی سے ملاقات کے لیے آئے ہیں، مگر عدالتی احکامات نہیں مانے جا رہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے بانیٔ پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات نہ کروانے کے معاملے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے وفاقی اور پنجاب حکومت کو خط لکھا اور عدالت بھی گئے، پارٹی لیڈر شپ اب مشاورت کرے گی، کس طرح آگے بڑھنا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں، سینیٹ کے الیکشن پر بھی لیڈر شپ نے مشاورت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل آفس کرپشن کے کیسز میں ملوث ہے، وفاقی حکومت این ایف سی کے تحت خیبر پختونخوا کو کیوں اس کا حصہ نہیں دے رہی۔
وزیرِ اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے نیت کا ٹھیک ہونا ضروری ہے، صوبائی معاملات چلانے کے لیے تجربہ نہیں عوام کی خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب اور وفاق میں تجربے کار لوگ حکومت کر رہے ہیں، انہوں نے عوام کو کیا دیا ہے؟ 2022ء میں ہمارا جی ڈی پی گروتھ کتنا تھا، آج کتنا ہے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی کہنا ہے کہ نے کہا کہ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔