’پوسائیڈن‘ سپر ٹارپیڈو کا کامیاب تجربہ، روسی صدر پیوٹن کا مغرب کو دوٹوک پیغام
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ روس نے ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ’پوسائیڈن‘ سپر ٹارپیڈو کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو ماہرین کے مطابق ساحلی علاقوں میں تباہ کن شعاعی سمندری لہریں پیدا کر سکتا ہے۔
’دنیا میں اس جیسی کوئی چیز نہیں‘، پیوٹنصدر پیوٹن نے ماسکو کے ایک فوجی اسپتال میں یوکرین جنگ کے زخمی فوجیوں سے ملاقات کے دوران کہا:
’پہلی بار ہم نے نہ صرف اس ٹارپیڈو کو آبدوز سے لانچ کیا بلکہ اس کا ایٹمی پاور یونٹ بھی کامیابی سے فعال کیا۔ اس جیسی کوئی ٹیکنالوجی دنیا میں نہیں ہے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’پوسائیڈن‘ کو کوئی روک نہیں سکتا۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی حدودِ پرواز 10 ہزار کلومیٹر تک اور رفتار تقریباً 185 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے خلاف اپنے بیانات اور مؤقف کو مزید سخت کر دیا ہے۔
پیوٹن نے اسی ہفتے ’بریویستنک‘ ایٹمی کروز میزائل (21 اکتوبر) اور ایٹمی لانچ مشقوں (22 اکتوبر) کا بھی حکم دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مغرب کو واضح پیغام دینے کے لیے ہیں کہ روس یوکرین جنگ کے معاملے پر دباؤ میں نہیں آئے گا۔
پوسائیڈن: ٹارپیڈو اور ڈرون کا امتزاجپوسائیڈن، جسے نیٹو میں کینیون کہا جاتا ہے، 20 میٹر لمبا، 1.
یہ ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے اور سیال دھات سے ٹھنڈا ہونے والے ری ایکٹر سے توانائی حاصل کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پیوٹن نے امریکی پابندیوں کو مسترد کردیا، ٹوماہاک حملے کی صورت میں ’بہت سخت جواب‘ کا انتباہ
روسی میڈیا کے مطابق یہ ہتھیار 2 میگا ٹن ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پیوٹن کا کہنا تھا کہ:
پوسائیڈن‘ کی طاقت ہمارے جدید ترین بین البراعظمی میزائل ’سارمات‘’ (Satan-II) سے بھی زیادہ ہے۔
ایٹمی ہتھیاروں کی نئی عالمی دوڑماہرین کے مطابق ’پوسائیڈن‘ کا تجربہ امریکا، روس اور چین کے درمیان ایٹمی مسابقت کے نئے دور کی علامت ہے۔
پیوٹن کے بقول، روس نے یہ نظام اس وقت تیار کرنا شروع کیا جب امریکا نے 2001 میں 1972 کا اینٹی بیلسٹک میزائل معاہدہ ختم کر دیا اور نیٹو نے مشرقی یورپ میں اپنی توسیع بڑھا دی۔
یہ بھی پڑھیے روس کو کس قسم کی فوجی برتری حاصل ہے؟ صدر پیوٹن نے راز کھول دیا
ٹرمپ کا ردعمل: ’روس جنگ ختم کرے، میزائل نہیں آزمائے‘روس کے حالیہ تجربات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’پیوٹن کو ایٹمی ہتھیار آزمانے کے بجائے یوکرین میں جنگ ختم کرنی چاہیے۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق، پیوٹن کے یہ اقدامات مغرب کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور ایٹمی مذاکرات میں بالادستی حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔