پنجاب سہولت بازار اتھارٹی عالمی سرٹیفکیٹس حاصل کرنے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب سہولت بازار اتھارٹی نے ایک اور نمایاں اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کو سوئٹزرلینڈ کے ایک مستند عالمی ادارے کی جانب سے اعلیٰ معیار پر انٹرنیشنل سرٹیفکیٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کو آئی ایس او 901 اور آئی ایس او 27001 کے سرٹیفکیٹس عطا کیے گئے ہیں، جس کے بعد یہ ادارہ اپنی نوعیت کا پہلا منفرد ادارہ بن گیا ہے جو دونوں عالمی سرٹیفکیٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
پنجاب سہولت بازار اتھارٹی نے صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 17 ہزار سے زائد سٹال قائم کرنے کا منفرد ریکارڈ بھی قائم کیا ہے۔ پنجاب کے 36 اضلاع میں 6 ہزار سٹال قائم کیے گئے ہیں جبکہ نئے بننے والے 10 سہولت بازاروں میں ایک ہزار سٹال لگائے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبہ بھر میں ویک اینڈ پر لگنے والے 10 ہزار سے زائد عارضی سٹال بھی عوام کی سہولت کے لیے موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کو عالمی سرٹیفکیشن ملنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید تین اضلاع میں جنوری تک سہولت بازاروں کا آغاز کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کو سستی اور معیاری اشیائے صرف کی فراہمی کے لیے سہولت بازار اتھارٹی کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ سہولت بازار اتھارٹی نے صوبہ بھر میں پھل، سبزیوں اور دیگر اشیائے صرف سستے داموں فراہم کر کے قابل قدر عوامی خدمت سرانجام دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سستی اور معیاری اشیاء کا حصول پنجاب کے عوام کا حق ہے اور پنجاب کے سرکاری اداروں کو صحیح معنوں میں خدمت کے مراکز بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب میں سستی روٹی اور سستا آٹا عوام کے لیے احساس کا ناقابل تردید ثبوت ہے، جبکہ سہولت بازاروں کا دائرہ کار ڈویژن، اضلاع اور تحصیلوں سے بتدریج چھوٹے شہروں تک وسیع کرنے کا عزم بھی رکھا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پنجاب سہولت بازار اتھارٹی
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔